اور غم کی شام گہری ہوتی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دن: آٹھ اکتوبر وقت: آٹھ بجکر کر چون منٹ مقام: پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر شدت: سات عشاریہ چھ ہلاکتیں: چوہتر ہزار (سرکاری)، ستاسی ہزار (غیر سرکاری) پاکستان میں اس سے قبل 1935 میں بھی اسی یا اس سے تھوڑی زیادہ شدت کا زلزلہ آ چکا ہے جس میں کوئٹہ شہر تباہ ہو گیا تھا لیکن آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے نہ صرف پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کو ہلایا بلکہ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف بھی تباہی پھیلائی۔ آٹھ اکتوبر کا دن پاکستان اور لائن آف کنٹرول کے آر پار رہنے والے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔ آٹھ اکتوبر کےدن اسلام آباد میں گیارہ ستمبر آیا اور اس جدید شہر کے دو جدید ٹاورز میں سے ایک ملبے کا ڈھیر بنا۔ کئی ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی۔ امدادی کاموں اور ’ریسکیو ٹیموں‘ کی توجہ دارالحکومت تک ہی رہی۔ پہاڑوں سے پرے ابھی دھیان نہیں گیا۔ آٹھ اکتوبر شام: آہستہ آہستہ غم کی شام گہری ہوتی گئی اور جنت نظیر علاقوں سے قہر کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ آٹھ اکتوبر رات: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قیامت کی خبر سنی گئی جو اسلام آباد کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور قہر انگیز تھی۔ زلزلے کے فوراً بعد متاثرین کو بچانے کی تمام تر کوشش اسلام آباد تک محدود ہوگئی اور کسی کو علم ہی نہ ہو سکا کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے دور دراز علاقوں میں کتنی تباہی ہوئی ہے۔ نو اکتوبر: جوں جوں سویرا ہوا زلزلے کی ہولناکی کی تصاویر سامنے آنا شروع ہو گئیں۔ شہر کے شہر ملیامیٹ ہوئے اور خاندانوں کے خاندان صفحۂ ہستی سے غائب۔ تحصیلِ علم کے لیے گئے ننھے منے بچے لقمہ اجل بنے اور ماں باپ نے اپنے بچوں کی آخری آوازیں ٹنوں ملبے کے نیچے سے سنیں۔ مدد کے لیے معصوموں کی پکار سننے والوں کے کلیجے تو چیر گئی لیکن کنکریٹ کو نہ چیر سکی۔ سینکڑوں معصوم آوازیں دم توڑ گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق اٹھارہ سو بچے ہلاک ہوئے دس اکتوبر: مظفر آباد، بالاکوٹ، الائی، باغ اور کئی دوسرے خوبصورت سیاحتی علاقے قبرستان بن گئے۔ بالاکوٹ میں گلی سڑی لاشوں سے تعفن پھیل گیا۔ موسم کی خرابی اور مزید جھٹکوں سے امدادی ٹیموں کے لیے کام کرنا مشکل ہوا۔ اتنے جھٹکے آئے کہ مظفر آباد میں ملبے میں پھنسے ایک نوجوان کو ملبے کے نیچے سے اپنے ماں باپ کو آواز دے کر کہنا پڑا کہ ’مجھے خدا پر چھوڑ کر آپ کسی محفوظ مقام پر چلے جائیں۔‘ جب ماں باپ اگلی صبح واپس آئے تو بیٹا واقعی خدا کے پاس جا چکا تھا۔ سردی بڑھنے لگی تھی اور بالا کوٹ شہرِ خموشاں بن چکا تھا۔ گیارہ اکتوبر: فضائی آپریشن میں تیزی آئی اور جوں جوں امداد بڑھنے لگی اس کے ساتھ ساتھ ہی اجتماعی قبروں میں بھی اضافہ ہوا۔ اب لاشوں کو ملبے تلے نکال کر رکھنے کا وقت نہ رہا اور غم نے کشمیر کے باسیوں کے آنسو بھی پتھرا دیے۔ بارہ، تیرہ، چودہ، پندرہ اکتوبر سے لے کر آج تک: لاشیں سینکڑوں سے ہزاروں ہوئیں اور معذور ہزاروں سے لاکھوں ہو گئے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں بچے یتیم۔
امداد کے وعدے ہوئے، وعدے ہوئے اور پھر وعدے۔ ہامیاں بھری گئیں، تعریفیں کی گئیں لیکن کشمیری انتظار کرتے رہے۔ زندگی خیموں کی پہنچ تک محدود ہوئی اور خوراک کی چند بوریوں میں بند ہو گئی۔ ہزاروں کو نہ خیمے نصیب ہوئے اور نہ خوراک کی بوریاں مسیر آئیں۔ اس ماحول میں دوائیاں ایک طرح کی آسائش ہو گئیں۔ ایک ڈاکٹر کو کہنا پڑا کہ جو پہلے مرحلے میں مر گئے حقیقت میں وہ ہی بچ گئے۔ زمینی حقیقت بھی اس سے کچھ مختلف نظر نہ آئی۔ بچے سب سے زیادہ خطرے میں نظر آئے۔ کئی کئی دن ٹوٹی ہڈیاں اور زخم لے کر زندہ رہنے والے بچوں کے اعضاء میں گینگرین پھیل گئی اور انہیں کاٹنا پڑا۔ لیکن جوں جوں دن گزرے لوگوں نے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانا شروع کردیا۔ کئی مقامات پر فوج کے خلاف نعرے بازی ہوئی، اور متاثرین نے سرِ عام فوج پر کڑی تنقید کی۔ یہاں تک کہ صدر مشرف کو قوم سے خطاب میں یہ بات تسلیم کرنا پڑی کہ فوج نے متاثرین تک پہنچنے میں کچھ دیر کی۔ زلزلے سے صرف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے ہی متاثر نہیں ہوئے تھے بلکہ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں بھی بربادی ہوئی تھی۔ دونوں طرف کشمیری مدد کے متلاشی تھے لیکن درمیان میں لائن آف کنٹرول تھی جسے عبور کیے بغیر کسی کی مدد نہیں کی جا سکتی تھی۔ جنوبی ایشیاء میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے اس زلزلے نے عالمی میڈیا کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کروا لی۔ عالمی نشریاتی اداروں اور بی بی سی نے اپنے نامہ نگاروں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کیں جہاں سے دنیا بھر میں ٹیلی وژن پر بربادی کے مناظر دیکھے گئے۔ زلزلے کے بعد جب امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں تو موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں تک جو امداد پہنچا رہے تھے وہ رک گئی۔ موسم کی خرابی کی یہ خبر متاثرہ لوگوں پر بجلی بن کر گری۔ انہیں اس وقت تک کوئی خوراک نہیں مل سکتی تھی جب تک موسم ٹھیک نہ ہوجائے۔ چونکہ حکومت کو کچھ وقت گزرنے کے بعد زلزلے کی شدت کا صحیح اندازہ ہوا تھا لہذا عالمی امداد کے نظام کو مربوط کرنے اور لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے اسلام آباد میں فوج کے ایک افسر کی زیرِ نگرانی ایک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
امدادی کارروائیاں شروع ہونے کے کافی دن بعد تک کئی علاقوں میں طبی امداد بھی نہیں پہنچ سکی اور غذا بھی نہیں۔ ہر جگہ لاشیں ملبے میں دبی ہوئی تھیں اور ہر جگہ ان لاشوں کے گلنے سے تعفن پھیل رہا تھا۔ایک طرف لوگ اجتمائی قبروں میں مردوں کو دبا رہے تھے تو دوسری جانب امداد نہ ملنے کی وجہ سے لوگ گھاس کھانے پر مجبور تھے۔ پاکستان میں لوگوں نے زلزلہ زدگان کے لیے بھرپور انداز میں امداد دی۔ جگہ جگہ عطیات جمع کرنے کے لیے کیمپ لگائے گئے، فنکاروں، کھلاڑیوں اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے اپنی بساط کے مطابق متاثرین کے لیے رقوم جمع کیں۔ تاہم متاثرین کو بھیجی گئی امداد میں ناکارہ گوشت بھی روانہ کیا گیا۔ اور حکمراں مسلم لیگ کے سربراہ چودہری شجاعت حسین کی جانب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جو کپڑے بھیجے گئے، ان کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لنڈے کے تھے جس پر لوگوں نے انہیں اپنی انا کی توہین سمجھ کر پہننے سے انکار کر دیا۔ آٹھ اکتوبر کو جو زلزلہ آیا اس نے جنوبی ایشیاء کے کئی علاقوں کے مکینوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ لیکن اس زلزلے کے بعد اب تک متاثرہ علاقوں میں درجنوں چھوٹے بڑے جھٹکے آئے ہیں اور اب تک آ رہے ہیں۔ یہ جھٹکے مزید جانی نقصان کا باعث تو نہیں بنے لیکن انہوں نے لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر ختم نہیں ہونے دی۔
زلزلے نے نہ صرف پختہ عمارتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا بلکہ دیہات کے دیہات اجاڑ دیئے۔سڑکیں ٹوٹ گئی تھیں اور پُلوں کا نام و نشان تک نہیں رہا تھا۔ انہی پلوں میں سے پاکستان اور بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کو ملانے والا پل بھی شامل تھا۔ بس چلنا بند ہوگئی اور کچھ ماہ پہلے قائم ہونے والا رابطہ ایک مرتبہ پھر منقطع ہوا۔کنٹرول لائن کے آر پار کشمیریوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے کنٹرول لائن کھولنے کی تجویز پیش کی گئی۔ پانچ مقامات کھولنے کا فیصلہ ہوا، لیکن پھر یہ تعداد تین پر آئی اور اب تک صرف ایک مقام ہی کھل سکا ہے۔ خوراک کی بوریاں بھارت کے زیرِانتظام کشمیر سے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر آئیں اور اگلے چند دنوں میں توقع ہے کہ اگر لوگ ان مقامات پر رہے تو انہیں امدادی سامان مل جائے گا۔ وادیِ نیلم اور جہلم کے علاوہ کاغان ناران اور سرحد کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک امدادی سامان پہنچ ہی نہیں سکا۔ کچھ دشوار گزار علاقوں میں جہاں ہیلی کاپٹروں بھی کارآمد نہیں ہو سکے وہاں، فوجیوں نے گدھوں اور خچروں کے ذریعے امداد پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ دن: آٹھ نومبر اس بات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ملبے سے لاشیں آج بھی نکالی جا رہی ہیں، ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہیں، جو بچ گئے کھلے آسمان تلے سرد موسم میں پڑے ہیں، متاثرین اب بھی امداد کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے حکام کو کوس رہے ہیں اور دور دراز کے علاقوں تک امداد کی رسائی ابھی بھی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ |
اسی بارے میں ’مرنے والوں کی تعداد 73276 ہے‘08 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان زلزلے کو1ماہ: شہر ملبے کےڈھیر 08 November, 2005 | پاکستان کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ، فائرنگ07 November, 2005 | پاکستان لوگوں کی فوج پر شدید تنقید11 October, 2005 | پاکستان ’دو دن سے لاشیں دفن کررہے ہیں‘10 October, 2005 | پاکستان ’ایک نسل ختم ہو گئی‘10 October, 2005 | پاکستان بالا کوٹ، بچے ابھی بھی ملبے میں 09 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||