BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زخمی راستے ہی میں دم توڑ گئے

زلزلے کے متاثرین
زخمیوں کو فوری طبی امداد کی اشد ضرورت ہے

پاکستان میں شدید زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اب ہنگامی امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے لیکن زلزلے کے پانچ دن بعد بھی ہزاروں ایسے زخمی افراد ہیں جو ابھی تک طبی امداد کے طلب گار ہیں۔ ان افراد میں سے ہزاروں ایسے ہیں جو پچھلے کئی دنوں کی پیدل مسافت طے کر کے طبی امداد کے لیے آئے ہیں۔

بالا کوٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کے مطابق بدھ کے روز پہلی مرتبہ امریکی ہیلی کاپٹر امداد لے کر بالاکوٹ پہنچا۔ قریب ہی ایک عارضی بنیادوں پر قائم کلینک میں پاکستان فوج کا عملہ ہزاروں زخمی اور بیمار افراد کو طبی امداد پہنچا رہا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق ان ہزاروں افراد میں سے کئی ایسے تھے جو دور دراز علاقوں سے زخمی حالت ہی میں طبی امداد کے لیے آئے تھے۔ کئی دن کی مسافت طے کرتے ہوئے ان کے ساتھ آنے والے کئی دیگر افراد راستے ہی میں دم توڑ گئے اور جو باقی بچے وہ کافی بری حالت میں تھے۔


فوجی ڈاکٹروں کی مدد کرنے والے میڈیکل کالج کے ایک طالب علم نے کہا: 'یہ بہت برا ہے، بہت ہی برا۔ ہمارے پاس ہزاروں زخمی لوگ ہیں اور ان میں سے زیادہ افراد کی ہڈیاں کئی جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں۔ ہمیں مخصوص طبی سپلائی کی ضرورت ہے، آئی وی لائنز، انجیکشنز، سٹیرؤڈ، اینٹی بائیوٹکس، اور درد کم کرنے والی دوائیں'۔

اسی دوران ایک پانچ سالہ بچے کو اس کا چچا جیپ میں بٹھا کر لاتا ہے۔ اس کے بازوں میں ایک گہرا زخم ہے جو انتہائی خراب ہو چکا ہے۔ لیکن ڈاکٹر صرف اس زخم کو صاف کر سکتے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق امداد تو پہنچ رہی ہے لیکن وہ ان علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہی جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

کئی متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ تاہم اس سامان کی تقسیم پر اب شدید تنقید ہونا شروع ہو گئی ہے۔

تحصیل علائی کے رہنے والے ایک شخص نے جو گیارہ گھنٹے پیدل چل کر ایبٹ آباد پہنچا بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ کئی علاقوں میں خوراک کی اتنی
کمی ہے کہ وہاں لوگ گھاس کھانا شروع ہو گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تئیس ہزار افراد ہلاک اور پچاس ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والے افراد کی ہے۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

بالاکوٹ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے لوگ وہاں فوج کی کارکردگی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں کیونکہ امدادی کاموں میں سب سے بڑی ایجنسی وہ ہی ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے فوج کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستے صاف ہونے کے ساتھ ہی امدادی کاموں تیزی لائی جائے گی۔

بین الاقوامی امداد میں بھی اب تیزی آ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے ہے اس وقت جن چیزوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ان میں ہیٹر، کمبل، ادوایات اور خیمے شامل ہیں۔

زلزلے کے متاثرین
امداد کے طالب بچے

دریں اثناء صوبہ سرحد کے زلزلہ سے متاثر ہونے والے ہزارہ کے تین ضلعوں بٹ گرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد، کے دور دراز علاقوں میں بدھ کو سینکڑوں گاڑیاں امدادای سامان لے کر گئی ہیں لیکن کوہستان کے دور دراز کے علاقوں میں خطرناک راستوں کی وجہ سے امدادی کام شروع نہیں ہوسکا۔

بٹ گرام اور کوہستان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح تک ان جگہوں پر ملبے تلے دبی انسانی لاشوں سے تعفن پھوٹ رہا تھا اور غذا نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بھوک سے نڈھال تھے۔ شنکیاری، بٹل، جیوڑی، بھشام، تحصیل الائی اور بھوگڑ منگ زلزلہ سے شدید متاثر ہونے والے علاقے ہیں۔

قراقرم کھل گئی
دریں اثناء پاکستان اور چین کو ملانے والی شاہراہ قراقرم پانچ روز بند رہنے کے بعد اب کھول دی گئی ہے۔ یہ شاہراہ زلزلے اور لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے کئی جگہ سے بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

زلزلے کے متاثرین
کئی جگہ لوٹ مار اور لڑائی کے واقعات کی بھی اطلاع ہے

اس سے اب سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کو ضروری سازوں سامان لانے میں آسانی رہے گی۔

بھارت کی امداد
زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بھارت سے امدادی سامان لیے پہلا تیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔ بھارت سے آنے والے کارگو طیارے کے سامان میں ادویات، کمبل، اور خیمے شامل ہیں۔ بھارت سے آنے والے طیارے پر لکھا ہے 'بھارت کے عوام کی طرف سے پاکستان کے عوام کے لیے'۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق پاکستان نے پہلے امداد لینے میں تامل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ امدادی سامان کو پہلے بھارت کے زیرِانتظام کشمیر بھیجا جائے۔ لیکن بعد میں جب پاکستان کے وزیرِ اعظم نے پیشکش قبول کر لی تو انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ سن 2001 میں پاکستان نے بھی گجرات میں زلزلے سے متاثر افراد کے لیے امداد بھیجی تھی۔

امریکی وعدہ
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس جو وسطی ایشیا اور افغانستان کے دورے پر ہیں بدھ کے روز اسلام آباد پہنچیں۔ انہوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی اور توقع ہے کہ وہ صدر مشرف سے بھی ملاقات کریں گی۔

اپنی ملاقات میں انہوں نے شوکت عزیز کو یقین دلایا کہ امریکہ پاکستان کی اس ضرورت کے وقت میں بھرپور امداد کرے گا۔ انہوں نے کہا 'ہم صرف آج نہیں کل بھی تمہارے ساتھ ہوں گے'۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ پاکستان کو کتنی امداد دے رہا ہے۔

مشرف کا افسوس
دوسری طرف پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے ہونے والی امدادی کاموں میں دیر کے لئے انہیں افسوس ہے۔

صدر مشرف نے کہا کہ تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ زلزلے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، صوبہ سرحد کے بالائی اور شمالی علاقوں کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس زیادہ ہیلی کاپٹر بھی نہیں تھے جن سے لوگوں کی مدد کی جا سکتی۔

66خوراک ہے خیمے نہیں
راولاکوٹ کےمتاثرین خیموں کے منتطر
66امداد کے منتظر
امدادی کاموں اور متاثرین کی تصاویر
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان: زلزلے کے بارے میں وڈیو رپورٹیں
66امداد کی لوٹ مار
امداد میں تاخیر کی وجہ سے متاثرین میں غصہ
66امداد کا انتظار
متاثرین زلزلے کے چار دن بعد بھی کھلے آسمان تلے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد