انور بیگ پارٹی عہدے سے مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر انور بیگ پارٹی کی خارجہ امور کی رابطہ کمیٹی کی سربراہی سے مستعفٰی ہو گئے ہیں تاہم انھوں نے استعفٰے کی وجوہات نہیں بتائی ہیں ۔ منگل کو سینیٹر انور بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی خارجہ امور کی رابطہ کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی میں ان کا ’جتنا کرداد تھا وہ ادا کر چکےہیں۔‘ انہوں نے استعفی کی وجوہات کے بارے میں بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنے استعفٰے میں تمام وجوہات بیان کر دی ہیں اور اس کی کاپی جلد ہی میڈیا کو جاری کر دی جائے گی۔‘ یاد رہے کہ گزشتہ روز بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سابقِ سینیٹر انور بیگ نے شریف برادران کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شریف برادران کی انتخابی نا اہلی اور پنجاب حکومت کے خاتمے کے بعد کی سیاسی صورتحال کی وجہ سے پارٹی قیادت میں بے چینی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے کسی تیسری طاقت کی مداخلت کی راہ ہموار ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلی قیادت کچھ نہ کچھ سوچ کر ہی سیاسی فیصلے کر رہی ہوگی تاہم موجودہ زمینی حقائق سے واضع ہے کہ ہم محاذا آرائی کی جانب جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز سے مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی کے سنئیر رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی کے سینیٹ میں قائد ایوان کے عہدے اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں تاہم اس خبر کی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||