’متاثرہ علاقے جن کا ذکر تک نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتی دعوؤں اور ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے برخلاف ایبٹ آباد آنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے علاقے ہیں جن تک امداد تو درکنار جن کے نام تک سامنے نہیں آئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے عزیزوں کو لے کر ایبٹ آباد آئے ہیں تا کہ انہیں طبی امداد حاصل ہو سکے۔ جب کہ ایبٹ آباد میں آنے والے اور لائے جانے والے زخمیوں کی تعداد پہلے ہی وہاں کے ہسپتالوں کی گنجائش سے زیادہ ہے۔ دو دو اور تین تین دن کا سفر کرنے کے بعد ایبٹ آباد پہنچنے والے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے اپنے ان عزیزوں کو دفنایا جن کا زلزلے کے نتیجے میں انتقال ہو گیا تھا اور اس کے بعد زخمیوں کو لے کر چلے اور راستے میں سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے بہت دشواریوں کے بعد یہاں پہنچ پائے ہیں۔ لوگ زلزلے سے متاثرہ ان علاقوں کے نام وادی کونش، بھگرہ منگ، وادئ پکھل، کاغان اور ناران بتاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے متاثرہ علاقوں کا تذکرہ تک نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کے لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، یہاں تک کہ پینے کا پانی تک نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ان علاقوں کے حالات سامنے آئیں گے تو ہلاک ہونے اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو جائے گی جو اس وقت بتائی جا رہی ہے۔ خود حکومتی اہلکار بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں ابھی بہت سے متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ صوبہ سرحد میں ہزارہ ریجن انتہائی متاثر ہوا ہے اس میں خاص طور پر مانسہرہ ضلع۔ بالا کوٹ پر توجہ اس لیے زیادہ ہو گئی کیونکہ اس کا اسی فی صد تباہ ہو گیا تھا۔ وہاں ہیلی کاپٹر بھی گئے ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں وقفے وقفے سے بارش بھی ہو رہی ہے جس کے وجہ سے امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ مظفرہ آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقارعلی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مظفرہ آباد کو پاکستان سے ملانے والی دونوں شاہراہیں کھل جانے کے باعث امدادی سامان مظفرہ آباد آنا شروع ہو چکا ہے لیکن دس بارہ کلو میٹر سے آگے نہیں جا رہا۔ اس لیے دوسرے متاثرہ علاقوں کے لوگ امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کو راستے میں روکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہلکے پھلکے ناخوشگوار واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ بٹ گرام سے احسان داور نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شاہراہِ ریشم کے ساتھ ساتھ آباد کوٹ گلہ اور اتلے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں اور وہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں پچھلے پانچ دن سے ملبے تلے دبی پڑی ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے ان میں زندہ لوگ بھی ہوں لیکن پانچ دن گزرنے کے بعد اس بات کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں کہ ان میں سے کوئی زندہ بھی بچ جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||