دیہات تباہ، بستیاں اجاڑ، موت ہی موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہفتے کو آنے والے زلزلے کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق راولاکوٹ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جبکہ بالاکوٹ، باغ اور کے ساتھ ساتھ کچھ شہروں اور درجنوں دیہاتوں میں بے تحاشا بربادی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ان میں سے اکثر علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں اور کچھ افراد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے لیکن اب بھی سینکڑوں افراد ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ شمالی علاقوں میں دیہاتوں کے دیہات نیست و نابود ہوچکے ہیں اور درجنوں بستیوں کا نام و نشان مٹ گیا ہے۔ ہلاک شدگان کی تعداد کے بارے میں اداروں میں بھی اختلاف ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ اندازاً 23 ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے مطابق 33 ہزار سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ پچاس ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ منگل کو بارش کے باعث بعض علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں خلل آیا تھا لیکن بعد میں صورتِ حال بہتر ہوگئی۔ تاہم ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق اکثر علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بارش کے باعث علاقے کی کچھ سڑکیں منگل کو بند ہو گئی تھیں لیکن انہیں کھول لیا گیا ہے۔
امدادی کارروائیوں میں پاکستان کے چھبیس ہیلی کاپٹر شامل ہیں جبکہ آٹھ امریکی اور باقی افغانستان اور جرمنی کے بھی کچھ ہیلی کاپٹر اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹرز کی زیادہ ضرورت نہیں کیونکہ ’ائرسپیس‘ کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔ صوبہ سرحد کی تحصیل بالاکوٹ میں رات گئے برفباری سے سردی میں شدید اضافہ ہوگیا ہے۔ لوگ کھلے آسمان کے نیچے ہیں اور رات گزارنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مظفرآباد کے برعکس جہاں لوگ کھانے اور پانی کا مطالبہ کرتے تھے بالاکوٹ میں وہ کمبل اور ٹینٹ مانگ رہے ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں میں مایوسی اور حکومت کے خلاف غصے کے جذبات میں ہر گزرے لمحے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
بہت سے غم زدہ لوگوں نے جن کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اس ناگہانی آفت کا شکار ہو گیا ہے اب اپنی بدترین حالت کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہے ہیں۔ ضلع باغ میں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ لاشیں دفنانے اور قبریں کھودتے کھودتے تھک گئے ہیں اور ان کے مطابق زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیونکہ بیشتر متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام نہیں ہے لہذا ان علاقوں کی رپورٹیں مرکز تک نہیں پہنچی ہیں اور اب تک لگائے جانے والے تمام اندازے صرف ابتدائی اطلاعات پر مبنی ہیں۔ منگل کی صبح اسلام آباد سے مظفرآباد کے لیے امدادی سامان کے تیس ٹرک روانہ کیے گئے جس میں خیمے، سلیپنگ بیگ اور کمبل شامل ہیں۔ پیر کو بھیجا جانے والا امدادی سامان منگل کی صبح مظفرآباد پہنچ گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں خوراک بھی روانہ کی گئی جبکہ بالاکوٹ کے لیے بھی کئی ٹرک روانہ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پینتالیس سے زائد ہیلی کاپٹر جن میں امریکی چنوک بھی شامل ہیں امدادی کاروائی میں حصہ لے رہے ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں ہموار زمین نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہیلی کاپٹر صرف یہ سامان اوپر سے گرا رہےہیں۔ زلزلے سے متاثرہ سڑکوں کے متعلق تازہ ترین صورتحال کے مطابق بالاکوٹ - کاغان روڈ بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اس کو کھولنے میں خاصا عرصہ لگ سکتا ہے۔ کاغان اور مضافات میں زلزلے نے بڑی تباہی مچائی ہے اور زلزلے سے بچ جانے والے لوگ سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کر کے بالا کوٹ پہنچ رہے ہیں۔ حکومت نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فیلڈ ہسپتال اور سرجیکل یونٹ قائم کئے جائیں گے تاکہ زخمی افراد کو وہیں علاج کی سہولت مہیا کی جائے۔اس سلسلے میں پاکستان بھر سے ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||