ہولناک راتیں، لوٹ مار، امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفرآباد سے ذوالفقارعلی کی تازہ ترین رپورٹ کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے اردگرد کے علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں بہت سے دیہاتوں میں زلزلے سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جہاں اب تک کوئی رسائی نہیں ہوسکی اور ان کا رابط ملک کے باقی علاقوں سے منقطع ہے۔ مظفرآباد کی کہانیاں پڑھنے اور تصاویر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں ایک دیہاتی نے جو نیلم ویلی سے میلوں کا سفر کر کے مظفرآباد پہنچا تھا بتایا کہ اس کے خاندان کے تیس لوگ زلزلے میں ہلاک ہو گئے۔ مظفرآباد میں اس نگہانی آفت کے چوتھے روز امدادی کاموں میں کچھ تیزی دیکھنے میں آئی جب مختلف ملکوں سے امدادی ٹیمیں مظفرآباد پہنچ گئی۔ منگل کو شدید بارشوں سے موسم میں آنے والی تیدیلی سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے ہزاروں لوگ کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں۔ مظفرآباد سے ظفر عباس کی تازہ ترین رپورٹ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں میں مایوسی اور حکومت کے خلاف غصے کے جذبات میں ہر گزرے لمحے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے غم زدہ لوگوں نے جن کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اس ناگہانی آفت کا شکار ہو گیا ہے اب اپنی بدترین حالت کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہے ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ہزاروں جوان امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاہم ان کی ترجیج زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانا ہے۔ ہفتے کو پاکستان میں آنے والے بدترین زلزلے کے متاثرین کی امداد اور ملبے میں دبے ہوئے افراد اور لاشوں کو نکالنے کے لیے امدادی سامان سے بھرے ٹرک اور ادویات شمالی علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئی ہیں۔ لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 33 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ 40 لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ مظفرآباد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے منگل کی صبح بتایا کہ نجی اور سرکاری امداد متاثرہ علاقوں میں پیر کی رات سے پہنچنا شروع ہو گئی تھی۔ ساتھ ہی راستے کھلنے کی وجہ سے بھاری مشینری بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہی ہے جس سے توقع ہے کہ امدادی کاموں میں تیزی آئے گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظفر آباد میں لوٹ مار کی اطلاعات ملی ہیں اور بھوکے پیاسے لوگوں نے فوجی ٹرکوں کو نشانہ بناتے ہوئے خوراک، خیمے اور دوائیوں چھین لی ہیں۔ ایک گروہ ایک پیٹرول سٹیشن میں گھس گیا تاکہ سردی سے بچنے اور کچھ پکانے کے لیے پیٹرول سے لکڑیاں جلا سکے۔ حکومت کی کئی گاڑیاں اور جیپیں بھی چوری کر لی گئی ہیں۔ ظفر عباس کا کہنا تھا کہ مظفر آباد اور بدترین تباہی کا شکار ہونے والے دوسرے علاقے ایک ہولناک منظر کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ میلوں تک پھیلے ہوئے ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے اور اگر فوری طور پر لاشوں کو ملبے سے نہیں نکالا گیا تو پورے علاقے میں بیماریاں پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔ مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اگر ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کی مدد نہ کی گئی تو انسانی جانوں کا ضیاع بہت زیادہ ہوجائے گا۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق شدید موسم میں لاکھوں لوگوں نے تیسری رات بھی کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔ لوگ حکومت سے کافی ناراض ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدام کیا جاتا تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ حکومت کہتی ہے کہ زلزلہ اتنا خوفناک تھا اور اس سے ایسا نقصان ہوا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہے۔ تاہم وزیرِ داخلہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں سے مطمئن ہیں۔ پیر کو صدر پرویز مشرف اور وزیرِ اعظم شوکت عزیز کی قیادت میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں امدادی کاموں کو مربوط بنانے کے لیے فیڈرل ریلف کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے اور جنرل فاروق کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو اس قدرتی آفت سے نمٹنے میں مدد دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان کو ایک ملین ڈالر کے امدادی پیکج فراہم کریں گے۔ بالا کوٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ وہاں تباہی کا عالم یہ ہے کہ اگر پوری کی پوری فوج بھی امدادی کاموں پر مقرر کر دی جائے تو بھی شاید تمام لوگوں کی امداد نہیں ہو سکتی۔ کم و بیش ہر مقام پر زلزلے کے تین دن بعد بھی لوگ اس امید میں ہیں کہ ملبے میں دبے ہوئے ان کے پیاروں کو شاید زندہ نکالا جا سکتا ہے کیونکہ غیر ملکی ماہرین نے گزشتہ روز ان مقامات پر کچھ افراد کو زندہ باہر نکالا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ منگل کو مزید فوجی ٹرک اور بھاری مشینری مظفرآباد اور ملحقہ علاقوں میں پہنچ جائے گی جس سے امدادی کارروائیوں کی رفتار میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس وقت متاثرہ علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے۔ کچھ علاقوں میں جہاں گزشتہ رات بارش ہوئی تھی موسم شدید تر ہو گیا ہے مگر لوگوں کے لیے نہ خیمے ہیں نہ کمبل اور پینے کے لیے پانی تک نہیں ہے۔ یہ لوگ جب کسی کو دیکھتے ہیں تو اس سے پانی مانگتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||