مظفرآباد: تباہی، خوف، بےبسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اتوار کی صبح پونے آٹھ بجے مظفر آباد پہنچا ہوں۔ اس شہر میں دو دن قبل میں نے خوشیاں دیکھی تھیں، آج موت رقص کررہی ہے، شہر میں چاروں طرف جہاں دیکھو ہر جگہ کوئی نہ کوئی دبا ہوا ہے، ملبے کے نیچے، عمارتوں کے نیچے۔ لوگوں نے کھلے آسمان کے نیچے پناہ لے رکھی ہے، قبرستانوں میں، گلیوں میں، کھلے میدانوں میں، اپنی گاڑیوں میں، خوف کی وجہ سے لوگ گھروں کے اندر نہیں جارہے ہیں، چاروں طرف موت اور تباہی کے مناظر ہیں۔ شہر پہنچنے پر صرف ایک ہی بات میرے ذہن میں آئی کہ یہاں موت کا رقص ہے، چند لمحات نے یہ کیا کردیا۔ سنیچر کی شب لوگوں نے باہر گزاری، سڑکوں پر، آسمان تلے۔ صرف ایک خبر ہے، ہر شخص کے منہ سے ، فلاں مرگیا، فلاں مرگیا، فلاں مرگیا۔ مکانات گرگئے ہیں، ہوٹل، سرکاری عمارتیں، دفاتر تباہ ہوگئے ہیں، جو گھر بچے ہیں وہ رہنے کے قابل نہیں ہیں، جیل کی عمارت گرگئی، یونیورسٹی کی بلڈنگ تباہ ہوگئی ہے اور اس کے نیچے طالب علم دبے ہوئے ہیں۔ جو عمارتیں کھڑی ہیں وہ رہنے کے لائق نہیں، ان میں دراڑیں پڑی ہیں۔ کچھ خوش قسمت لوگ ہیں جو ملبوں کے نیچے سے بچ گئے۔ بچوں، عورتوں، بوڑھوں، سب کے چہروں پر خوف و ہراس ہے، ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس رہنے کی جگہ ہو تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی یہاں نہیں رہنا چاہے۔ خوراک نہیں، طبی امداد نہیں، حکومت کی کوئی مشینری کام نہیں کررہی، پولیس والے دکھائی نہیں دیتے، فوج کے لوگ نہیں دکھتے۔ تباہی کے مناظر ہیں، ہر طرف، یہاں کی حکومت بےبس ہے، غریب ہے، کوئی حکومتی مشنری کام نہیں کررہی ، اگر کوئی مدد کرنا چاہے بھی تو جس بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگا کہ اگر امدادی کارروائی کی جائے تو آخر کہاں۔ دور دراز کے علاقوں سے، باغ اور راؤلاکوٹ سے بھی یہی اطلاعات آنا شروع ہورہی ہیں، لوگ مرگئے ہیں، زحمی ہیں، ملبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، لیکن شاید مظفرآباد میں تباہی زیادہ ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||