زلزلے سے تباہی کا آنکھوں دیکھا حال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہفتے کی صبح آنے والے زلزلے سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ ٹاور کا ایک بلاک مکمل طور پر جبکہ دوسرے بلاک کا کچھ حصہ زمین بوس ہوگیا ہے۔ تباہ شدہ بلاک میں اقوام متحدہ اور کچھ سفارتخانوں کے ملازم رہائش پذیر تھے۔ مارگلہ ٹاور کے رہائشی ممتاز راجپر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو ان کی عمارت جھولے کی طرح جھول رہی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے جب کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ان کے ساتھ والا بلاک نمبر چار زمین بوس ہوگیا اور وہ خدا کو یاد کرتے ہوئے چیختے اور پکارتے بچوں کے ہمراہ بھاگ نکلے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو خدا نے ایک نئی زندگی دی ہے اور یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ بچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ مارگلہ ٹاور زمین بوس ہونے کا منظر اب بھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اب بھی خود کو خاصا خوفزدہ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیر غلام رسول مرحوم اور ان کے پارٹنر مسٹر کھوکھر نے مارگلہ ٹاور تعمیر کیا تھا اور ناقص سامان استعمال کرنے سے یہ تباہی ہوئی ہے۔ پی آئی اے کے ملازم ممتاز راجپر نے بتایا کہ مارگلہ ٹاور کے پانچ بلاک ہیں اور ہر بلاک میں تیس لگژری اپارٹمنٹ ہیں۔ ہر اپارٹمنٹ کی قیمت محتاط اندازے کے مطابق سوا کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سیکیورٹی کے بہتر انتظامات اور لگژری کی وجہ سے زیادہ تر غیر ملکی اس ٹاور میں اپنی رہائش رکھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ممتاز راجپرکے مطابق بیسیوں لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ زمیں بوس ہونے والے ٹاور کے قریب رہنے والے ذوالفقار علی نے بتایا کہ تباہی کی جگہ سب سے پہلے سویلین رضا کار پہنچے جو ملبہ ہٹا رہے تھے اور زخمیوں کو نکال رہے تھے۔ پولیس اور فوج بعد میں پہنچی۔ انتظامیہ نے کرین منگوائی جو ملبہ ہٹانے کا کام اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک نوجوان شخص کو زخمی حالت میں پانچ گھنٹے ملبے تلے دبے رہنے کے بعد نکالا گیا اور جب انہیں سٹریچر پر لٹایا گیا تو وہ زندہ بچ جانے کی خوشی میں ہاتھ ہلا کر رضاکاروں کا شکریہ ادا کر رہے تھا۔ اس شخص کو ایک ایمبولینس میں فوری طور پر پمز ہسپتال لے جایا گیا۔ تباہ شدہ ٹاور کے رہائشیوں کے رشتہ دار روتے اور پکارتے ہوئے ادھر سے ادھر بھاگتے ہوئے نظر آئے۔ کئی نوجوان بشمول کالج کے طلبا طویل قطار بنا کر ملبے کے ٹکڑے ایک دوسرے کو دے کر دور پھینکتے رہے۔ جبکہ کرین بھاری ملبے کے ٹکڑے ٹرکوں میں پھینک رہی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||