زلزلے سے دو ہزار کے قریب ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت میں شدید زلزلہ سے ہلاک ہونے والو ں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ سب سے سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے کشمیر میں تقریباً پندرہ سو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ صوبہ سرحد کے مانسہرہ علاقے میں کم سے کم تین سو بچوں کے ہلاک ہونی کی اطلاع ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تین سو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئےاور کئی گھنٹے بعد تک بھی نسبتاً کم شدید جھٹکے آتے رہے۔ اسلام آباد میں ایف ٹین کے علاقے میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت زمیں بوس ہو گئی ہے اور درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ ٹاور کا ملبہ ہٹانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے مطابق صرف اسلام آباد میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہو گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر کے مطابق سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں زمین بوس ہونے والی عمارت میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چالیس سالہ مصری شہری بھی شامل ہیں۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت سات اعشاریہ چھ تھی۔ اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 80 کلومیٹر دور شمال مشرق میں کشمیر کی پہاڑیوں میں تھا۔ پاکستانی وقت کے مطابق زلزلہ آٹھ بجکر چون منٹ پر آیا اور کئی شہروں میں اس کے جھٹکے دو منٹ تک محسوس کیے گئے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں عمارتیں لرز کر رہ گئیں۔ پاکستانی وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے ایک مقامی ٹیلیویژن کو بتایا کہ ’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ متعدد دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں‘۔ ایک سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ اموات کی حتمی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے یہ بھی بتایا ہے کہ زمین بوس مارگلہ ٹاور کے ملبے سے تاحال پینتالیس افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے امدادی کارروائیوں کے لیے جاپان سے فنی مدد حاصل کر لی ہے۔ ان کے مطابق جاپان سے ماہرین کی ایک ٹیم آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ضروری آلات کے ساتھ اسلام آباد پہنچ جائے گی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ ’مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایک ہزار سے بھی کہیں زیادہ‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک قومی سانحہ ہے‘۔ شوکت سلطان کے مطابق چار سو تیس افراد کو زلزلے سے متاثرہ افراد فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ملٹری ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات سمیت مختلف شہروں میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور پہاڑی تودے گرنے سے سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں۔ شوکت سلطان نے خدشہ ظاہر کیا کہ زلزلے سے ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی فوجی بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں مزید معلومات یہ کہہ کر فراہم نہیں کی کہ ابھی وہ معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ البتہ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں تعینات فوجیوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔ کشمیر، سرحد کے شمالی اضلاع اور شمالی علاقہ جات میں سینکڑوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ سرحد کے مختلف ضلعوں خصوصا شانگلہ اور مانسہرہ میں ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد زلزلہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سرکاری افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے‘۔ راولاکوٹ میں بھی کئی دیہاتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ٹیکسلا، مانہسرہ ، بالا کوٹ اور شمالی علاقوں میں کچھ مکان تباہ ہو گئے ہیں۔ زلزلہ سے لاہور میں رینجرز ہیڈکوارٹرز کے قریب چند دکانیں گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے اور شاہ عالم مارکیٹ میں ایک مکان گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شاہ عالم میں جو مکان گرا ہے اس کا ملبہ خاصا زیادہ ہے اور ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کے اندر کتنے لوگ ہیں۔ سیالکوٹ میں ایک سکول کی عمارت گرنے سے آٹھ بچے زخمی ہوئے ہیں۔
شہر کی کئی بڑی عمارتوں میں قائم دفاتر کا عملہ باہر نکل کر سڑک پر کھڑا ہوگیا۔ لاہور میں مال روڈ پر جی پی او، پوسٹل آفس اور جیل روڈ پر ای ایف یو کی عمارتوں کو زلزلہ کے جھٹکوں کے بعد خالی کرالیا گیا۔ شہر کے کئی سکول بند کرکے بچوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں فیض آباد کے قریب ایک سکول کی چھت گرنے اور کئی مکانوں کی چھتوں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ اسلام آباد میں سینٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے کیونکہ ارکان اپنے علاقوں اور گھروں میں جانا چاہتے تھے۔
زلزلہ اتنا شدید تھا کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ دعائیں مانگتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ شدید زلزلے سے مواصلات کا نظام بھی متاثر ہواہے اور لوگوں کو ٹیلی فون خصوصاً موبائل فون پر اپنے عزیزوں سے رابطہ کرنے میں دشواریاں پیش آئیں۔ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں پندرہ فوجیوں سمیت دو سو پچاس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دہلی اور راجستھان کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی لوگوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔ نئی دہلی میں صحافی جیوتی ملہوترا نے بتایا کہ لوگوں نے پہلے سوچا کہ شاید یہ جھٹکے جلد ہی ختم ہوجائیں لیکن کئی منٹ تک جاری رہے۔ ہندوستان میں زلزلے کے یہ جھٹکے راجستھان، نئی دہلی، اترپردیش اور بہار میں بھی محسوس کیے گئے۔
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ایک چوراسی سالہ خاتون نے بتایا کہ لگتا ہے کہ ان کی زندگی کا یہ سب سے شدید زلزلہ تھا۔ چوالیس سالہ عائشہ بیگم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’میری زندگی کا یہ شدید ترین زلزلہ ہے جو میں نے محسوس کیا۔‘ ابتدائی اطلاعات سے لگتا ہے کہ کئی عشروں میں یہ سب سے بڑا زلزلہ ہوسکتا ہے۔ پاکستانی محکمۂ موسمیات کے مطابق بیس سال قبل اس علاقے میں چھ اعشاریہ دو کی شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ امریکی فوج کے ترجمان جیری اوہارا نے اے پی کو بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے بگرام میں محسوس کیے گئے لیکن کسی نقصان کی ابتدائی اطلاع نہیں تھی۔ زلزلے سے متاثرہ علاقہ
|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||