BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزاروں ہلاک، لاشیں نکالنے کا کام جاری

 ملبے میں پھنسے ہوئے لوگ
ایف ٹین میں تباہ ہونے والی عمارت میں سینکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف حصوں میں شدید زلزلے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات سمیت مختلف شہروں میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں اوراس زلزلے میں ہزاروں افراد کی ہلاکت ہو سکتی ہے۔

ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت سات اعشاریہ چھ تھی۔ پاکستانی وقت کے مطابق زلزلہ آٹھ بجکر چون منٹ پر آیا اور کئی شہروں میں اس کے جھٹکے دو منٹ تک محسوس کیے گئے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں عمارتیں لرز کر رہ گئیں۔

اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اسلام آباد کے ایف ٹین سیکٹر میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اب تک سات افراد کے ہلاک اور پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ ٹاور کا ملبہ ہٹانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

پمز ہسپتال کے مطابق مارگلہ ٹاورز گرنے سے دو بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہسپتال میں چھپّن زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں زمین بوس ہونے والی عمارت میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چالیس سالہ مصری شہری بھی شامل ہیں جو ایک سلیولر فون کمپنی موبی لنک میں ملازم تھے۔

آفتاب احمد شیر پاؤ نے ایک مقامی ٹیلیویژن کو بتایا کہ ’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ متعدد دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں‘۔ ایک سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ اموات کی حتمی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا ہے کہ زمین بوس مارگلہ ٹاور کے ملبے سے تاحال پینتالیس افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے امدادی کارروائیوں کے لیے جاپان سے فنی مدد حاصل کر لی ہے۔ ان کے مطابق جاپان سے ماہرین کی ایک ٹیم آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ضروری آلات کے ساتھ اسلام آباد پہنچ جائے گی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات سمیت مختلف شہروں میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور پہاڑی تودے گرنے سے سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوجی ہیلی کاپٹر اور امدادی ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں۔

شوکت سلطان نے خدشہ ظاہر کیا کہ زلزلے سے ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی فوجی بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں مزید معلومات یہ کہہ کر فراہم نہیں کی کہ ابھی وہ معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ البتہ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں تعینات فوجیوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔

کشمیر، سرحد کے شمالی اضلاع اور شمالی علاقہ جات میں درجنوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ خدشہ ہے کہ ان جگہوں پر مرنے والوں کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ سرحد کے مختلف ضلعوں خصوصا شانگلہ اور مانسہرہ میں ہونے کا خدشہ ہے۔

 اسلام آباد میں ایف ٹین کے علاقے میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ٹاور کا ملبہ ہٹانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں

پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد زلزلہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سرکاری افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ہمیں مظفر آباد میں 250 افراد کے مرنے کی خبر ملی ہے اور ہزاروں لوگ زخمی ہیں‘

ابتدائی اطلاعات کے مطابق راولاکوٹ میں کئی دیہاتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ٹیکسلا، مانہسرہ ، بالا کوٹ اور شمالی علاقوں میں کچھ مکان تباہ ہو گئے ہیں۔

میرپور میں ایدھی سینٹر کے انچارج رفیع بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرپور میں مکان تو متاثر نہیں ہوئے لیکن شہر کی دو مسجدوں کے اونچے مینار گرنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں توتھال کے علاقہ میں ایک مسجد کا مینار بیٹھ گیا جبکہ اس مینار پر تعمیراتی کام ہورہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

لوگ ملبے تلے دب گئے

ایدھی سینٹر کے مطابق میرپور میں دوسرا مینار ایف ون سیکٹر میں عید گاہ مسجد کا گرا۔ یہاں پر بچے قران کا درس لے رہے تھے جو زلزلہ آنے پر باہر نکل کر بھاگے تو مینار کے ملبہ کے نیچے دب گئے۔ ایدھی سینٹر کے مطابق اس حادثہ میں پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

زلزلہ سے لاہور میں رینجرز ہیڈکوارٹرز کے قریب چند دکانیں گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے اور شاہ عالم مارکٹ میں ایک مکان گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شاہ عالم میں جو مکان گرا ہے اس کا ملبہ خاصا زیادہ ہے اور ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کے اندر کتنے لوگ ہیں۔ سیالکوٹ میں ایک سکول کی عمارت گرنے سے آٹھ بچے زخمی ہوئے ہیں۔

شہر کی کئی بڑی عمارتوں میں قائم دفاتر کا عملہ باہر نکل کر سڑک پر کھڑا ہوگیا۔ لاہور میں مال روڈ پر جی پی او، پوسٹل آفس اور جیل روڈ پر ای ایف یو کی عمارتوں کو زلزلہ کے جھٹکوں کے بعد خالی کرالیا گیا۔ شہر کے کئی سکول بند کرکے بچوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔

راولپنڈی میں فیض آباد کے قریب ایک سکول کی چھت گرنے اور کئی مکانوں کی چھتوں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ اسلام آباد میں سینٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے کیونکہ ارکان اپنے علاقوں اور گھروں میں جانا چاہتے تھے۔

زلزلہ اتنا شدید تھا کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ دعائیں مانگتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ شدید زلزلے سے مواصلات کا نظام بھی متاثر ہواہے اور لوگوں کو ٹیلی فون خصوصاً موبائل فون پر اپنے عزیزوں سے رابطہ کرنے میں دشواریاں پیش آئیں۔

ابتدائی اطلاعات سے لگتا ہے کہ کئی عشروں میں یہ سب سے بڑا زلزلہ ہوسکتا ہے۔ پاکستانی محکمۂ موسمیات کے مطابق بیس سال قبل اس علاقے میں چھ اعشاریہ دو کی شدت کا زلزلہ آیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد