جموں کشمیر:300 ہلاک، 600 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی، بھارت اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں شدید زلزلے سے پندرہ فوجیوں سمیت 300 سے زائد افراد ہلاک اور چھ سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کو بتایا گیا کہ زلزلے میں تین سو سے زائد ہلاک ہوئے۔ اجلاس میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے سو کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ سینکڑوں گھر تباہ ہو گئے اور امدادی کارکن لوگ کو ملبے کے نیچے سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے جموں، کشمیر ، پنجاب ، دلی ، ہریانہ، راجستھان اور ہماچل پردیش جیسی شمالی ریاستوں میں محسوس کیے گيے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کپواڑہ ضلع میں ٹنگدار کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اب تک کی خبروں کے مطابق پچیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے پاس اڑی شہر بھی بری طرح متاثر تباہ ہوا ہے جہاں تقریباً ستّر فیصد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ زلزلے سے اڑی میں آگ لگنے سے بازار خاستر ہوگيا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کشمیر میں چار سو سے زیادہ گھر تباہ ہوئے ہیں اور سینکڑوں لوک زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی کشمیر کے علاقے میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک واقع اوری قصبے میں ہوئی جہاں زلزلے کی وجہ سے دو بسیں گہری کھائی میں گر گئیں۔ اطلاعات کے مطابق لائن آف کنٹرول کے پاس فوجی بنکر کرنے سے پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔اطلاعات ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||