مشرف پر حملے کا ملزم گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں ملوث ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کراچی سٹی پولیس چیف طارق جمیل نے سنیچر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم شرافت علی عرف خالد فوجی ولد اکبر علی کا تعلق کالعدم تنظیم حرکت الجہاد اسلامی سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کو صبح سویرے کراچی کینٹ ریلوی سٹیشن کے برابر ایک رہائشی ہوٹل سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم کا ایک ساتھی فرار ہوگیا ہے جبکہ اس کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، دو عدد ہینڈ گرنیڈ اور تین پستولیں برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ملزم اندرون پاکستان ہونے والی ان تمام دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے جن کا ماسٹر مائینڈ امجد فاروقی تھا جوگزشتہ سال مقابلے میں نوابشاہ میں مارا گیا جبکہ ملزم کا تعلق بھی نوابشاہ سے ہے۔ طارق جمیل نے بتایا کہ ملزم صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں بھی شامل ہے جو ماہ دسمبر دو ہزار چار میں راولپنڈی میں ہوا تھا۔ اسی طرح ملزم اٹک کے علاقے میں وزیر اعظم شوکت عزیز پر ہونے والے خودکش حملے کے علاوہ راولپنڈی اور ٹیکسلا کی حدود میں واقع چرچ اور مشنری اسکول پر ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ کے مطابق ملزم خالد فوجی کا شمار امجد فاروقی کے خاص شاگردوں میں ہوتا ہے جو پنجاب حکومت کو بھی مطلوب ہے جس کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بیس لاکھ روپے کا انعام رکھا ہے۔ ملزم کی تربیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فرقہ وارنہ اور دیگر دہشتگرد گروپ ان ملزمان کو تربیت فراہم کرتے ہیں اور ان ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے مواد میں بھی تربیت کی ترغیب ہوتی ہے۔ کراچی میں کیا ملزم کوئی مشن لیکر آیا تھا کہ جواب میں طارق جمیل نے کہا کہ اس سلسے میں ملزم سے تحقیقات کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ملزم رابطے اور منصوبہ بندی کا کام کرتا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||