BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 September, 2005, 03:25 GMT 08:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کی تردید بھی متنازع
مشرف کے بیان پر مظاہرے
کراچی میں خواتین نے اپنے دوپٹے نظرِ آتش کیے
صدر جنرل پرویز مشرف نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ایک اخبار کو انٹرویو کے دوران ریپ کا نشانہ بننے والوں پر یہ الزام لگایا ہے کے وہ خود کو پیش آنے والے حالات کو مالی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن اس بارے میں منگل کو واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون کے لکھنے والوں میں سے ایک نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضمون میں صدر کی باتوں کا حوالے ’من عن‘ دیا گیا ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم پال مارٹن نے صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر معافی مانگیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا کینیڈا کی شہریت یا ویزہ لینا چاہتے ہیں تو خود کو ’ریپ‘ کروا لیں‘۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم پال مارٹن نے پاکستان کے صدر سے اقوامِ متحدہ میں اجلاس کے دوران ایک ضمنی ملاقات بھی کی ہے۔

تاہم صدر مشرف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ بقول ان کے ’انہوں نے ایسا کوئی بیان دیا ہی نہیں ہے جو خواتین کے خلاف ہو‘۔

نیو یارک میں ٹائم میگزین کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ ایسے بے حس نہیں ہیں کہ وہ یہ الزام لگائیں کہ زنا بالجبر کا شکار بننے والی خواتین اپنی حالت کو معاشی فوائد کے لیے استعمال کرتی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ انگریزی روزنامے نے ان کے الفاظ کا غلط مطلب نکالا ہے اور ان کو ’misquote‘ کیا ہے۔

واضح رہے کہ انگریزی روزنامے واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں ریپ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ یہ بات انہوں نے روزنامے کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران کہی تھی۔

ادھر پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نےجنسی تشدید کو’کمائی کا ذریعہ‘ قرار دینے پر جنرل مشرف سےاستعفیٰ کامطالبہ کیا ہے۔

کراچی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ایک مظاہرے میں مشتعل خواتین نے نفرت کے اظہار کے لیے اپنے دوپٹے نظر آتش کیے۔ خواتین نعرے لگا رہی تھیں’ جنرل مشرف شرم کرو،پاکستان کی ہر عورت سے معافی مانگو۔‘

مظاہرہ میں شہر کے علاوہ دیہی خواتین کی بھی ایک بڑی تعدا موجود تھی جس میں انہوں نے سیاہ پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر جنرل مشرف کے خلاف سخت الفاظ میں نعرے تحریر تھے۔ ایک پلی کارڈ پر کون بنے گا کروڑ پتی تحریر تھا۔

مظاہرے میں بدین کی ایک خاتون کو بھی پیش کیا گیا۔جس کی سات سالہ بیٹی کو ریپ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ کیا یہ عورت خود باہر جانا چاہتی تھی یا اس کی بیٹی۔
مظاہرین کا جنرل مشرف سے سوال

مظاہرے میں بدین کی ایک خاتون کو بھی پیش کیا گیا۔جس کے بارے میں وومین ایکشن فورم کی رہنماء انیس ہارون نے بتایا کے ان کی سات سالہ بیٹی کو ریپ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ عورت خود باہر جانا چاہتی تھی یا اس کی بیٹی۔

مظاہرے کے دوران شیماکرمانی اور ان کے گروپ کی جانب سے ایک اسٹیج تھیٹر پیش کیا گیا جس میں سپر پاور امریکہ اور اس کے ساتھی جنرل مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم جنرل مشرف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں اور اسے پاکستانی عورتوں اور حقوق نسوان کے عملبردار تنظیموں کے خلاف سربراہ مملکت کی جانب سے خواتین پر تشدد کی حوصلے افزائی سمجھتے ہیں جنرل مشرف کی سوچ نے پاکستانی عورتوں کے تشخص پر ایک سوالیہ نشان لگایا ہے۔

جنرل مشرف آج امریکن جیوش کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں۔

امیریکن جیوش کانگرس کی ویب سایٹ کے مطابق پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ خطاب اچانک نہیں بلکہ دو سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے ـ

جب امیریکن جیوش کانگریس نے پاکستانی حکام اور امریکہ میں پاکستانی برادری سے غیر رسمی بات چیت کاآغاز کیا جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے تنظیم کے اعلیٰ رہنماؤں کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔

امریکن جیوش کانگرس کے ترجمان نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے صدر مشرف کو دعوت اس لیے دی ہے کہ وہ ایک ترقی پسند مسلم رہنما ہیں اور دیگر مذاہب سے مل جل کر رہنا چاہتے ہیں

66’شدید دکھ پہنچا‘
صدر کے بیان پرمختاراں مائی رنجیدہ
66عورت پر تشدد
پاکستان میں عورت پر تشدد کے واقعات
66غیرت کے نام پر
چھ سال میں چار ہزار افراد سے زائد ہلاک
66جرگے کے فیصلے
’قتل بھائی نے کیا اور تاوان میں بہن دے دی‘
66خواتین کا عالمی دن
پورے پاکستان میں عورتوں کے دن پر تقریبات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد