صدر مشرف کی تردید بھی متنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ایک اخبار کو انٹرویو کے دوران ریپ کا نشانہ بننے والوں پر یہ الزام لگایا ہے کے وہ خود کو پیش آنے والے حالات کو مالی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں منگل کو واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون کے لکھنے والوں میں سے ایک نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضمون میں صدر کی باتوں کا حوالے ’من عن‘ دیا گیا ہے۔ کینیڈا کے وزیرِ اعظم پال مارٹن نے صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر معافی مانگیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا کینیڈا کی شہریت یا ویزہ لینا چاہتے ہیں تو خود کو ’ریپ‘ کروا لیں‘۔ کینیڈا کے وزیرِ اعظم پال مارٹن نے پاکستان کے صدر سے اقوامِ متحدہ میں اجلاس کے دوران ایک ضمنی ملاقات بھی کی ہے۔ تاہم صدر مشرف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ بقول ان کے ’انہوں نے ایسا کوئی بیان دیا ہی نہیں ہے جو خواتین کے خلاف ہو‘۔ نیو یارک میں ٹائم میگزین کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ ایسے بے حس نہیں ہیں کہ وہ یہ الزام لگائیں کہ زنا بالجبر کا شکار بننے والی خواتین اپنی حالت کو معاشی فوائد کے لیے استعمال کرتی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی روزنامے نے ان کے الفاظ کا غلط مطلب نکالا ہے اور ان کو ’misquote‘ کیا ہے۔ واضح رہے کہ انگریزی روزنامے واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں ریپ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ یہ بات انہوں نے روزنامے کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران کہی تھی۔ ادھر پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نےجنسی تشدید کو’کمائی کا ذریعہ‘ قرار دینے پر جنرل مشرف سےاستعفیٰ کامطالبہ کیا ہے۔ کراچی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ایک مظاہرے میں مشتعل خواتین نے نفرت کے اظہار کے لیے اپنے دوپٹے نظر آتش کیے۔ خواتین نعرے لگا رہی تھیں’ جنرل مشرف شرم کرو،پاکستان کی ہر عورت سے معافی مانگو۔‘ مظاہرہ میں شہر کے علاوہ دیہی خواتین کی بھی ایک بڑی تعدا موجود تھی جس میں انہوں نے سیاہ پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر جنرل مشرف کے خلاف سخت الفاظ میں نعرے تحریر تھے۔ ایک پلی کارڈ پر کون بنے گا کروڑ پتی تحریر تھا۔
مظاہرے میں بدین کی ایک خاتون کو بھی پیش کیا گیا۔جس کے بارے میں وومین ایکشن فورم کی رہنماء انیس ہارون نے بتایا کے ان کی سات سالہ بیٹی کو ریپ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ عورت خود باہر جانا چاہتی تھی یا اس کی بیٹی۔ مظاہرے کے دوران شیماکرمانی اور ان کے گروپ کی جانب سے ایک اسٹیج تھیٹر پیش کیا گیا جس میں سپر پاور امریکہ اور اس کے ساتھی جنرل مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم جنرل مشرف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں اور اسے پاکستانی عورتوں اور حقوق نسوان کے عملبردار تنظیموں کے خلاف سربراہ مملکت کی جانب سے خواتین پر تشدد کی حوصلے افزائی سمجھتے ہیں جنرل مشرف کی سوچ نے پاکستانی عورتوں کے تشخص پر ایک سوالیہ نشان لگایا ہے۔ جنرل مشرف آج امریکن جیوش کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ امیریکن جیوش کانگرس کی ویب سایٹ کے مطابق پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ خطاب اچانک نہیں بلکہ دو سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے ـ جب امیریکن جیوش کانگریس نے پاکستانی حکام اور امریکہ میں پاکستانی برادری سے غیر رسمی بات چیت کاآغاز کیا جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے تنظیم کے اعلیٰ رہنماؤں کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ امریکن جیوش کانگرس کے ترجمان نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے صدر مشرف کو دعوت اس لیے دی ہے کہ وہ ایک ترقی پسند مسلم رہنما ہیں اور دیگر مذاہب سے مل جل کر رہنا چاہتے ہیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||