BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 July, 2005, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ

فائل فوٹو
پچیس سالہ خاتون فوزیہ چنیوٹ کے نواحی علاقے اڈا برجیاں کی رہائشی اور تین بچوں کی ماں ہے۔
پاکستانی پنجاب کے ایک وسطی شہر چنیوٹ میں ایک شادی شدہ خاتون سے اجتماعی زیادتی کا ایک مبینہ واقعہ منظر عام پر آیا ہے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ اسے غیرت کے نام پر اس مبینہ ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور انہوں نے پولیس کارروائی پر بھی عدم اطمینان کا مظاہرہ کیا ہے۔

پولیس سٹیشن چنیوٹ کے انچارج انسپکٹر محمد ممتاز نے کہا ہے کہ یہ واقعہ تیس اور اکتیس مئی کی درمیانی شب پیش آیا تھا اور پولیس نے حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر کے مقدمہ میں نامزد آٹھ میں سے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے ایک نے ضمانت کرالی جبکہ باقی دو مفرور ہیں۔

پچیس سالہ خاتون فوزیہ چنیوٹ کے نواحی علاقے اڈا برجیاں کی رہائشی اور تین بچوں کی ماں ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اسے گھر سے اغوا کرنے کے بعد دریائے چناب کے کنارے ایک بے آباد مکان میں رکھ کر تین روز تک اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
خاتون نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس دوران ملزمان نے اسے مبینہ طور پر شراب پلائی اور رقص پر مجبور کیا۔

خاتون نے کہا کہ اس دوران ملزمان کہتے رہے کہ انہوں نے ایک ملزم کی بیٹی کو گھر سے بھگانے کا بدلہ لیا ہے جو اپنی مرضی کاشادی کرنا چاہتی تھی۔

فوزیہ کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والوں نےبعد میں اسے پکڑ لیاتھا اور واپس لاکر اس کی مرضی کے خلاف شادی کر دی۔

مدعیہ کے بقول ملزمان کو شک تھا کہ لڑکی کے بھاگنے میں فوزیہ کی ایک رشتہ دار خاتون نے اس کی مدد کی تھی جس کا بدلہ لینے کے لیے مبینہ طور پر اسے (فوزیہ کو) اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشان بنایا گیا۔

اس خاتون کو پولیس نے چھاپہ مار کے بازیاب کیا تھا۔

انسپکٹر محمد ممتاز کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں چار ملزمان کو نامزد کیا گیا تھااور بعد میں ہونے والی تفتیش میں مزید چار افراد کو نامزد کر دیاگیا۔
ان ملزمان میں سے تین جیل میں ہیں اور دو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

خاتون نے پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان اس پر صلح کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ پولیس نے تفتیش میں مبینہ طور پر خامیاں چھوڑی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد