اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے ایک وسطی شہر چنیوٹ میں ایک شادی شدہ خاتون سے اجتماعی زیادتی کا ایک مبینہ واقعہ منظر عام پر آیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اسے غیرت کے نام پر اس مبینہ ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور انہوں نے پولیس کارروائی پر بھی عدم اطمینان کا مظاہرہ کیا ہے۔ پولیس سٹیشن چنیوٹ کے انچارج انسپکٹر محمد ممتاز نے کہا ہے کہ یہ واقعہ تیس اور اکتیس مئی کی درمیانی شب پیش آیا تھا اور پولیس نے حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر کے مقدمہ میں نامزد آٹھ میں سے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے ایک نے ضمانت کرالی جبکہ باقی دو مفرور ہیں۔ پچیس سالہ خاتون فوزیہ چنیوٹ کے نواحی علاقے اڈا برجیاں کی رہائشی اور تین بچوں کی ماں ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اسے گھر سے اغوا کرنے کے بعد دریائے چناب کے کنارے ایک بے آباد مکان میں رکھ کر تین روز تک اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون نے کہا کہ اس دوران ملزمان کہتے رہے کہ انہوں نے ایک ملزم کی بیٹی کو گھر سے بھگانے کا بدلہ لیا ہے جو اپنی مرضی کاشادی کرنا چاہتی تھی۔ فوزیہ کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والوں نےبعد میں اسے پکڑ لیاتھا اور واپس لاکر اس کی مرضی کے خلاف شادی کر دی۔ مدعیہ کے بقول ملزمان کو شک تھا کہ لڑکی کے بھاگنے میں فوزیہ کی ایک رشتہ دار خاتون نے اس کی مدد کی تھی جس کا بدلہ لینے کے لیے مبینہ طور پر اسے (فوزیہ کو) اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشان بنایا گیا۔ اس خاتون کو پولیس نے چھاپہ مار کے بازیاب کیا تھا۔ انسپکٹر محمد ممتاز کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں چار ملزمان کو نامزد کیا گیا تھااور بعد میں ہونے والی تفتیش میں مزید چار افراد کو نامزد کر دیاگیا۔ خاتون نے پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان اس پر صلح کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ پولیس نے تفتیش میں مبینہ طور پر خامیاں چھوڑی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||