’ایک ایک لمحہ بھاری ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے سوئی میں مبینہ طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا ہے کہ انہیں پاکستان میں جان کی اتنی دھمکیاں ملی ہیں کہ وہ برطانیہ آنے کے بعد بھی ڈری ڈری ہیں۔ بی بی سی اردو سروس کے ثقلین امام سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ ’وہ بیان نہیں کر سکتیں کہ انہیں پاکستان میں جان کی کتنی دھمکیاں ملی تھیں۔ ہمارا جینا محال ہو گیا تھا۔ ہم اب بھی خوف میں رہ رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے خلاف زیادتی کے واقعے کی تحقیقات سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق تو ان کے ساتھ کوئی انصاف ہی نہیں ہوا بلکہ الٹا ڈرا دھمکا کر ملک سے باہر نکال دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں اسلام آباد کی ایک خبر رساں ایجنسی کے لوگ دھمکیاں دیتے تھے۔ انہوں نے کہا ایجنسی کے لوگوں کا دعویٰ تھا کے ان کے اعلیٰ حکام تک رابطے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شناخت پریڈ کے دوران بھی دھمکیاں دی گئیں تھی۔ ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے بارے میں ہونے والی تحقیقات کے بارے میں ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ وہ بلکل مطمئن نہیں ہیں اور انہیں انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریبیونل کی ایک کارروائی بلوچستان میں ہونی تھی لیکن انہیں چیف سیکرٹری کے اسسٹنٹ نے کہا کہ وہ کراچی میں پیش ہو جائیں اور ان سے ایک کاغذ پر دستخط کروائے گئے کہ ان کی طبعیت خراب ہے اور وہ بلوچستان میں پیش نہیں ہونا چاہتیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجبور ہو کر پاکستان سے نکلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں پاکستان سے باہر آنا نہیں چاہتی تھی لیکن میرے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا‘۔ ’میرے مسئلے کی وجہ سے بلوچستان میں اتنے راکٹ چلے، جانیں ضائع ہوئیں۔ ہسپتالوں میں کام نہ ہونے کی وجہ سے اتنے بچے ہلاک ہو گئے۔ میں کیا کرتی۔ میرا کیریئر تباہ ہو گیا تھا، میرے شوہر کا کیرئیر تباہ ہو گیا تھا‘۔ انہوں نے برطانیہ میں اپنے قیام کے متعلق کہا کہ وہ یہاں نہ تو اپنی مرضی سے آئی ہیں اور نہ ہی یہاں خوش ہیں۔ ’آپ کو کیا معلوم ہم یہاں کیسے جی رہے ہیں۔ ہم پر ایک ایک لمحہ بھاری ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||