BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 March, 2005, 21:14 GMT 02:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیڈی ڈاکٹر سے دو بار زیادتی ہوئی

سوئی
سوئی میں اس واقعہ کے بعد سے حالات انتہائی کشیدہ رہے
لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے زیادتی کے حوالے سے ٹریبیونل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر سے صرف ایک شخص نے ایک رات میں دو مرتبہ زیادتی کی ہے اور اس کے شواہد ملے ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس احمد خان لاشاری پر مشتمل ٹریبیونل نے اپنی رپورٹ گزشتہ روز حکومت کو پیش کردی تھی جس کے اہم نکات آج حکومت نے اخبارات کو جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لیڈی ڈاکٹر سے صرف ایک شخص نے ایک رات میں دو مرتبہ زیادتی کی ہے اور زیادتی کے وقت ایک شخص کمرے کے باہر کھڑا تھا اور یہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے گواہوں کی جانب سے دیے گئے بیانات سے ڈیفنس سروسز گارڈز کے اہلکار کا واقعہ سے تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے ناظم نے ٹریبونل کو بتایا ہے کہ انھیں نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر آگاہ کیا جبکہ اس وقت تک علاقے کے لوگوں میں یہ افواہ پھیل چکی تھی کہ واقعہ میں ڈی ایس جی کا اہلکار ملوث ہے۔

لیڈی ڈاکٹر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے گھر کی راہداری کا تالا اس طرح بنایا گیا ہے کہ اگر اسے اندر کی طرف سے بند کیا جائے تو یہ کنڈی کو توڑے بغیر کھولا نہیں جا سکتا۔مکان کے باہر کا گیٹ راہداری کا گرل گیٹ اور خواب گاہ کا دروازہ لیڈی ڈاکٹر نے خود بند کیے تھے اور تالے لگائے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کہ یہ تالے کھولنا اور خواب گاہ تک پہنچنے کے لیے ملزم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی۔

ٹریبیونل نے واقعہ میں ملوث کسی فرد یا افراد کی نشاندہی نہیں کی ہے اور نہ ہی حکومت یا پولیس کو کسی فرد کے خلاف تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کے کمرے سے ملنے والے تازہ استعمال شدہ کنڈوم اور اس سے پہلے استعمال شدہ خشک کنڈوم ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے قابل اعتماد شہادت کے طور پر مو جود ہیں پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ اصل مجرم کی گرفتاری تک ڈی این اے ٹیسٹ کے حوالے سے تحقیقات کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے اسے نہ صرف پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ کی حدود میں موجود تمام افراد اور ضرورت پڑنے پر حدود سے باہر بھی توسیع دی جائے۔

سوئی کیسسوئی کیس
’ڈاکٹرشازیہ، انجیکشن دے کر بیان لیا گیا‘
عورت پانی بھرنے جا رہی ہےعورت پر تشدد
پاکستان میں عورت پر تشدد کے واقعات
خوف کا پہرہخوف کا پہرہ
عورت کے گرد خوف کے کتنے پہرے ہیں؟
حوا کہاں پناہ لے؟
جنسی ہراس کے موضوع پر نیا سلسلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد