ڈاکٹر کےساتھ مبینہ زیادتی کی تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی حکومت نے سوئی میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتی کی تحقیقات بلوچستان ہائی کورٹ کے جج سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے وزارت دفاع کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کوئٹہ میں آج کابینہ کے اجلاس میں سوئی میں جاری کشیدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس میں لیڈی ڈاکٹر سے پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاگیا کہ یہ واقعہ مذہبی اور انسانی اقدار کے منافی اور صوبے کی روایات کے خلاف ہے۔ کابینہ کی ہدایات کے مطابق اس واقعہ کی ایف آئی آر متعلقہ تھانے میں رجسٹرڈ کر لی گئی ہے لیکن سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ کو اس واقعہ کے بعد سوئی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے آگا ہ کیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی اور دیگر نے اس واقعہ میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ملوث ہونے کا الزام لگایاہے۔ کابینہ نے سوئی میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبرو تحمل سے کام لیں اور قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں اورحکومت انصاف کے تمام تقاضے پورا کر تے ہوئے اس واقعہ میں ملوث افراد کو جلد بے نقاب کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دے گی۔ کابینہ نے عوام اور صوبے کی تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ امن و امان کے قیام اور صورتحال کی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کو کامیاب بنائیں۔ یاد رہے کہ سوئی میں لیڈی ڈاکٹر کے واقعہ کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور گزشتہ چار روز سے وقفے وقفے سے نا معلوم افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مابین فائرنگ ہو رہی ہے۔ علاقے کےلوگوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||