خاتون ڈاکٹر سے زیادتی کے الزامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت لیڈی ڈاکٹر سے مبینہ زیادتی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ مقامی سطح پر لوگوں میں اس واقعے کے خلاف اشتعال پایا جاتا ہے۔ یا رہے کہ وفاقی حکومت نے نواب اکبر بگٹی سے گزشتہ رات رابطہ قائم کیا تھا اور سوئی میں جاری کشیدگی کم کرنے کا کہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ انہیں چوہدری شجاعت اور طارق عزیز کا فون موصول ہوا تھا جس میں انہوں نے لوگوں سے بات کرنے کو کہا تو انہوں نے ٹیلیفون پر چوہدری شجاعت اور طارق عزیز سے کہا کہ کن لوگوں سے بات کی جائے کسی کی نشاندہی کی جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر لیڈی ڈاکٹر سے مبینہ زیادتی کسی بگٹی نے کیا ہوتا تو آسمان سرپر اٹھا لیتے لیکن چونکہ اس میں زورآور لوگ ملوث ہیں اس لیے وہ آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے دونوں نمائندوں کو بتایا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ لوگوں کا غصہ کم ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ روایات میں عزت اور نا موس کی قدر ہے اور اس پر لوگ مشتعل ہیں کیونکہ لیڈی ڈاکٹر سے یہاں زیادتی کی گئی ہے۔ جمعہ اور سنیچر کو رات کے وقت فائرنگ کے واقعات کی ذمہ داری ایک نا معلوم شخص نے بلوچ لبریشن فرٹ کے نام پر قبول کی ہے۔ اس تنظیم کے نمائندہ آزاد بلوچ نے کہا تھا کہ مسلسل دو روز تک یہ حملے بی ایل ایف نے لیڈی ڈاکٹر سے مبینہ زیادتی کے خلاف کیے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی سے میں نے اس تنظیم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ہے کہ انہیں اس تنظیم کا علم نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ایسے واقعات کے حوالے سے لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ ایسی تنظیمیں سالہا سال سے کام کر رہی ہیں اور یہ تنظیمیں خود اپنے آپ کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ان میں بگٹی مری مینگل جمالی زہری اور تمام قبائل کے لوگ شامل ہیں، کوئی ایک قوم کے لوگ نہیں ہیں۔ بلوچ معاشرے میں عزت اور نفس کا خیال رکھا جاتا ہے اور بے شرمی اور بے حیائی کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||