فرنٹیئر کور پر حملہ، چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر تربت کے نزدیک فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کی گاڑی پر راکٹ اور کلاشنکوف سے فائرنگ کی گئی ہے جس میں چار اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ سنیچر اور جمعہ کی درمیانی شب تربت سے پچپن کلومیٹر دور نوانو اور بلیدہ کے درمیاں ناگ کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایف سی کے اہلکار گاڑیوں میں نوانو چوکی سے واپس آ رہے تھے۔ تربت سے صحافیوں نے بتایا ہے کہ ایف سی کی گاڑی پر پہلے راکٹ داغے گئے اور بعد میں ان پر فائرنگ کی گئی۔ زخمیوں کو ابتدائی طور پر مقامی طبی مراکز لے جایا گیا جہاں سے انہیں کوئٹہ لایا گیا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی نامی تنظیم نے نیم فوجی دستے کے اہلکاروں پر حملے کے حوالے سے ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک نامعلوم شخص نے ذرائع ابلاغ اور پریس کلب میں ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ ’بی ایل اے‘ کے نشر و اشاعت کے سیکریٹری ہیں اور بی ایل اے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یاد رہے کہ بی ایل اے اور بلوچ لبریشن فرنٹ کوئٹہ کے میزان چوک میں بم دھماکے اور خضدار سمیت دیگر مقامات پر کئی دھماکوں اور حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ تربت شہر میں حملے کے بعد سول انتظامیہ اور ایف سی کے حکام نے مشترکہ تفتیش شروع کر دی ہے اور مشتبہ مقامات پر بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ ایف سی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مزید نفری بھی علاقے کو بھیج دی گئی ہے تاہم ابھی تک کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سال مئی میں تربت اور گوادر کے سرحدی علاقے میں فوجی کارروائی کی گئی تھی جہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف کے مطابق پچیس کیمپ پکڑے گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے بلوچستان اسمبلی میں بتایا تھا کہ ان کیمپوں سے آتش گیر مواد کے علاوہ ریموٹ کنٹرول بیٹریز اور دیگر مواد ملا تھا جسے تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||