BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 November, 2004, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چمن: فائرنگ سے دو ہلاک، احتجاج

بلوچستان میں فوجی کارروائی کے خلاف حالیہ مظاہرے
بلوچستان میں فوجی کارروائی کے خلاف حالیہ مظاہرے
صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ اس واقعہ کے خلاف آج مقامی تاجروں اور لغڑیوں نے کوئٹہ قندھار روڈ بلاک کردیا اور انتظامیہ کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔

معمولی معاوضے کے عوض ممنوعہ اشیاء کی ترسیل کے لیے کام کرنے والے افراد کو چمن کے علاقے میں لغڑی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ رات کچھ لغڑی غیر قانونی طور پر بیل افغانستان لے جارہے تھے جن پر فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں نے فائنرگ کردی۔

ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب افغانستان سے بھی ان لغڑیوں پر فائرنگ کی گئی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ افراد کس کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کل رات کے وقت کچھ افراد الیاس پوسٹ کے قریب سے سرحد عبور کرنا چاہتے تھے ان کے ساتھ مویشی تھے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی ہے جبکہ دوسری جانب افغان فورسز نےاشرف تھانے سے فائرنگ کی ہے۔ لاشیں اور زخمی افغان علاقے میں پائے گئے ہیں جنہیں افغان اہلکاروں نے پاکستانی اہلکاروں کے حوالے کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں آئی جی ایف سی نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔اگر تفتیش کے دوران یہ ثابت ہو گیا کہ ایف سی کے اہلکار کی فائرنگ سے یہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں تو ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چمن میں لغڑی تنظیم کے صدر حاجی جانان نے کہا ہے کہ کہ یہ لوگ ایف سی کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: افغان فورسز کو ان پر فائرنگ کی کیا ضرورت تھی؟ غیر قانونی اشیاء کی ترسیل کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو گرفتار کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہاں ایف سی کے اہلکار تعینات تھے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ا ن کے علاقے میں غریبی ہے، صنعتیں اور زراعت نہیں ہے، روزگار کے لیے لوگ معمولی مزدوری کے عوض بڑے ٹھیکیداروں کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں جس میں انہیں ہر لمحہ جان کا خطرہ رہتا ہے۔

چمن سے صحافی اسلم نے بتایا ہے کہ ایف سی کی فائرنگ سے اب تک لگ بھگ ایک سو تئیس ایسےافراد ہلاک ہو چکے ہیں جو ایک تھیلہ آٹا گھی یا الیکٹرانک کا ایک آدھ سامان لے جاناچاہتے تھے۔ کوئی بڑا سمگلر یا بڑی کھیپ لے جاتے ہوئے کم ہی لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

فائرنگ کے اس واقعے کے خلاف سنیچر کے روز چمن میں تاجروں اور لغڑیوں نے احتجاج کیا اور افغانستان کی طرف جانے والی شاہراہ کو بلاک کیے رکھا، اس دوران مظاہرین نے زبردست نعرہ بازی بھی کی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں ایف سی کی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے متفقہ قراداد پاس ہو چکی ہے۔

جبکہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد نے بھی وفاقی سطح پر قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے زیلی کمیٹی کے سامنے ایف سی کی غیر ضروری چوکیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن سینیٹر ثناء بلوچ نے بتایا ہے کہ اس وقت ایف سی کی بلوچستان میں لگ بھگ ساڑھے پانچ سو چوکیاں قائم ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد