BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 October, 2004, 10:47 GMT 15:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کمیٹی کا اجلاس

News image
بلوچستان کے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کے روز چودھری شجاعت حسین کی صدارت میں ہوا جس میں نوے دنوں کے اندر سفارشات مرتب کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے دو ذیلی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سینیٹر ثناءاللہ بلوچ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایک ذیلی کمیٹی سید مشاہد حسین کی سربراہی میں قائم ہوئی ہے جو بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی کو ختم کرنے کے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔

سینیٹر ثناءاللہ بلوچ کے مطابق وسیم سجاد دوسری ذیلی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ یہ کمیٹی صوبائی خودمختاری کے متعلق آئین میں ترامیم کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔

ثناء اللہ بلوچ کے مطابق مشاہد حسین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا اجلاس گیارہ اکتوبر کو بلایا جائے گا۔ ان کے مطابق چودھری شجاعت حسین کے زیرصدارت اجلاس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی جماعت کے گرفتار لوگ رہا کیے جائیں اور بڑی تعداد میں سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی تعیناتی ختم کی جائے۔

حکومت نے کچھ دن قبل بلوچستان میں مبینہ طور پر فوج سمیت مختلف سکیورٹی ایجنسیوں سے بعض مسلح گروہوں کی جھڑپوں کے بعد کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے پارلیمان کی انتیس رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کو کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اس انتیس رکنی کمیٹی میں چیئرمین سمیت انیس اراکین کا تعلق حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے جبکہ دس کا تعلق حزب مخالف کی جماعتوں سے ہے۔ کمیٹی میں دونوں ایوانوں کے اراکین شامل ہیں۔

کمیٹی میں شامل حکومتی جماعتوں کے اراکین میں چودھری شجاعت حسین، وسیم سجاد، سعید احمد ہاشمی، مشاہد حسین سید، سرور خان کاکڑ، ایاز احمد مندوخیل، سید عبدالقادر گیلانی، مہم خان بلوچ، ولی محمد بادینی، ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو، محمد علی بروہی، بابر خان غوری، زبیدہ جلال، میر نصیر خان مینگل، خلیل الرحمٰن، سردار یار محمد رند، نورجہاں پانیزئی، کلثوم پروین اور پری گل آغا شامل ہیں۔

اس کمیٹی میں حزب اختلاف کے ارکین میں مخدوم امین فہیم، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی، مولانا محمد خان شیرانی، مولانا سمیع الحق، ثناء اللہ بلوچ، امان اللہ کنرانی، رضا محمد رضا، اسلم بلیدی اور سردار محمد یعقوب ناصر شامل ہیں۔

کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد سینیٹر ثناء اللہ بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے عبدالرؤف مینگل اور رضا ربانی کو کمیٹی میں شامل کرنے کے بارے میں چودھری شجاعت حسین سے بات کی ہے اور انہوں نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

صوبے میں شدت پسند کارروائیوں میں اضافے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد ساتھی طارق عزیز نے جو کہ ’قومی سلامتی کونسل‘ کے سیکریٹری بھی ہیں، بعض بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف بلوچستان میں ہر قیمت پر فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما فوجی چھاؤنیوں کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل اپنی جگہ لیکن بلوچستان کے قوم پرستوں کے مسائل حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

محمود خان اچکزئی اور سردار عطاءاللہ مینمگل سمیت بیشتر رہنما پہلے ہی کہتے رہے ہیں کہ جب تک بلوچستان کے وسائل پر صوبے کا حق مالکیت تسلیم کرنے، صوبے میں مجوزہ فوجی چھاؤنیوں کے قیام کا منصوبہ ترک کرنے اور نئے آئین کی تشکیل نہیں ہوگی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد