BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 September, 2004, 18:04 GMT 23:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: آپریشن پر پارلیمانی کمیٹی

News image
کمیٹی تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پارلیمان کے دونوں ایوانوںکو پیش کرے گی۔
پاکستان حکومت نے بلوچستان میں مبینہ طور پر فوجی کارروائی سے متعلق پارلیمان کی انتیس رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔کمیٹی کے سربراہ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین ہوں گے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس پانچ اکتوبر کو پارلیمینٹ ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔

چیئرمین سمیت انتیس اراکین میں سے انیس کا تعلق حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے جبکہ دس کا تعلق حزب مخالف کی جماعتوں سے ہے۔ کمیٹی میں دونوں ایوانوں کے اراکین شامل ہیں۔

کمیٹی تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی ایوان بالا سینیٹ اور ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔

کمیٹی میں شامل حکومتی جماعتوں کے اراکین میں چودھری شجاعت حسین،وسیم سجاد،سعید احمد ہاشمی،مشاہد حسین سید،سرور خان کاکڑ،ایاز احمد مندوخیل، سید عبدالقادر گیلانی، مہم خان بلوچ،ولی محمد بادینی،ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو،محمد علی بروہی،بابر خان غوری،زبیدہ جلال، میر نصیر خان مینگل، خلیل الرحمٰن، سردار یار محمد رند، نورجہاں پانیزئی،کلثوم پروین اور پری گل آغا شامل ہیں۔

اس کمیٹی میں حزب اختلاف کے ارکین میں مخدوم امین فہیم،محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی،مولانا محمد خان شیرانی، مولانا سمیع الحق، ثناء اللہ بلوچ، امان اللہ کنرانی،رضا محمد رضا،اسلم بلیدی اور سردار محمد یعقوب ناصر شامل ہیں۔

کمیٹی کی تشکیل کے متعلق ثناء اللہ بلوچ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے عبدالرؤف مینگل اور رضا ربانی کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے دونوں کے نام شامل نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے رابطہ کرکے ان دونوں کے نام شامل کرانے کی بات کریں گے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ وہ جائزہ لیں گے کہ بلوچستان کے مسائل مستقل بنیاد پر حل کرنے میں حکومت کتنی سنجیدہ ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے قومی اسمبلی کے سپیکر اور دونوں ایوانوں میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے مشورے کے بعد یہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کمیٹی کا سیکریٹیریٹ سینیٹ کا سیکریٹیریٹ ہوگا۔ کسی بھی متعلقہ شخص کو کمیٹی طلب کر سکے گی۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں فوجی کاروائی کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں سینیٹ میں احتجاج کرتی تھیں جس پر اس وقت کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے گذشتہ ماہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی خصوصی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

جب یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی حزب اختلاف نے اٹھایا تھا اس وقت سینیٹ کے بجائے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔

بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام خلاف، گوادر جیسے بڑے منصوبوں میں بلوچوں کو ملازمتیں وغیرہ دینے اور قدرتی وسائل پر صوبے کا حق تسلیم کرنے کے لیے جہاں سیاسی رہنما مطالبے کرتے رہے وہاں بعض شدت پسند مسلح بلوچوں کے فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہی تھیں۔

صوبے میں شدت پسند کاروائیوں میں اضافے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد شخص طارق عزیز جو کہ ’قومی سلامتی کونسل‘ کے سیکریٹری بھی ہیں، بعض بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں تھیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل اپنی جگہ لیکن بلوچستان کے قومپرستوں کے مسائل حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ محمود خان اچکزئی اور سردار عطاءاللہ مینمگل سمیت بیشتر رہنما پہلے ہی کہتے رہے ہیں کہ جب تک بلوچستان کے وسائل پر صوبے کا حق مالکیت تسلیم کرنے، صوبے میں مجوزہ فوجی چھاؤنیوں کے قیام کا منصوبہ ترک کرنے اور نئے آئین کی تشکیل نہیں ہوگی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد