خود مختاری کے مسودے کی تیاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ چار بلوچ قوم پرست جماعتوں کا اتحاد وفاقی حکومت کے سامنے صوبائی خود مختاری اور آئینی ترامیم کا مطالبہ رکھے گا۔ مطالبات کا یہ مسودہ مشترکہ طور پر تیار کیا جائے گا جس کے لیے انہوں نے نیشنل پارٹی کے قائد ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کو بتا دیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ جلد شروع ہوگا اور یہ سلسلہ وہیں سے شروع ہو گا جہاں اسے پچھلی ملاقات میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس بارے میں انہوں نے بتایا ہے کہ انھیں صدر پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات جلد شروع کیے جائیں گے۔ ’گزشتہ ماہ ہونے والی ملاقات میں ہم نے انہیں سنا تھا اب ہم تیاری کر رہے ہیں تاکہ ہم اپنے مطالبات اور خدشات ان کے سامنے رکھ دیں‘۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ اس کے لیے گزشتہ روز نیشنل پارٹی کا وفد ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی سربراہی میں ڈیرہ بگٹی آیا تھا جنہیں اس بارے میں تیاری کرنے کو کہا گیا ہے۔ بلوچستان میں چار بلوچ قوم پرست جماعتیں میگا پراجیکٹس اور فوجی چھاؤنیوں کے قیام کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں میں جمہوری وطن پارٹی اور نیشنل پارٹی کے علاوہ سردار عطاءاللہ مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی اور نواب خیر بخش مری کی حق توار شامل ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کوئٹہ میں نامعلوم شخص نے اپنے آپ کو بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ بتاتے ہوئے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کی تنظیم ان مذاکرات کی مخالفت کرتی ہے اور وہ بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ رکن قومی اسمبلی اور نواب خیر بخش مری کے بیٹے بالاچ مری نے بھی اپنے بیانات میں ان مذاکرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||