نئی آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اقلیتی قوموں کی تنظیم پونم نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر کھلے آسمان تلے ہونے والے ایک سیمینار میں نئی آئین ساز اسمبلی کے انتخابات اور نئے آئین کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں پارلیمٹ لاجز کے ہال میں پونم میں شامل چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والی قوم پرست جماعتوں کے رہنما ایک سیمینار کرنے والے تھے لیکن حکومت نے انھیں سیمینار کرنے کی اجازت نہیں دی اور ہال کو تالے لگا دیے۔ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ہال میں موجود پونم سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے دو ارکانِ قومی اسمبلی کو ساری رات ہال میں بند رکھا۔ ہال میں سیمینار کرنے کی اجازت نہ ملنے پر پونم کے رہمنا جن میں عطا اللہ مینگل، اسفند یارولی، ممتاز بھٹو، محمود خان اچکزئی، قادر مگسی، رسول بخش پلیجو اور سرائیکی قوم پرست جماعت کے ارکان بھی شامل تھے ایک جلوس کی صورت میں پارلیمنٹ لاجز سے باہر آئے۔ موقع پر موجود پولیس کی بھاری جمعیت نے پارلیمنٹ لاجز کے گیٹ پر تالے لگا کر شرکاء کو باہر نکلنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن یہ لوگوں باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور پارلیمنٹ ہاوس کی عمارت کے باہر دھرنہ دے کر بیٹھ گئے۔ پونم کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر ہی سیمینار کیا۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان ایک کثیر القومی ملک ہے اور اس میں رہنے والی تمام قوموں کے یکساں حقوق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ ان تمام قوموں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ سیمینار کے شرکاء نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کا آیین فرسودہ ہو چکا ہے لہذا آئین سازی اسمبلی کے انتخابات کرا کے نیا آئین تشکیل دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||