چھوٹے صوبوں کے حقوق کا پھر مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چھوٹے صوبوں کی قوم پرست سیاسی جماعتوں کے اتحاد ’پونم‘ کے رہنماؤں نے وفاق پاکستان اور صوبوں کے درمیاں نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے بلوچستان میں بعض مسلح گروہوں کی شدت پسند کارروائیوں کو جائز قرار دے دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سردار عطاءاللہ مینگل، محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنماؤں نے مقامی ہوٹل میں ’ چھوٹے صوبوں کے آئینی،معاشی،ثقافتی اور سیاسی استحصال۔ حقائق اور اعداد وشمار کے تناظر میں ان کا حل مسلمہ عالمی قوانین کی روشنی میں‘ کے عنوان سے منعقد کیے گئے سیمینار سے خطاب میں کیا۔ سیمینار میں افراسیاب خٹک، قادر مگسی اور عبدالمجید کانجو سمیت بیشتر بلوچ، پشتون، سندھی اور سرائیکی قوم پرست رہنما موجود تھے۔ بلوچستان کے دو سابق وزراء اعلیٰ تاج محمد جمالی اور اختر مینگل کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے رکن اسمبلی عبدالقیوم جتوئی نے بھی سیمینار میں شرکت کی۔ اس موقع پر سندھ اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر اور مرحوم جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ نے بعض اعداد وشمار بھی پیش کیے اور الزام لگایا کہ مرکز اور پنجاب چھوٹے صوبوں کے وسائل پر قابض ہیں۔ بیشتر مقررین نے پرانی باتیں ہی دہرائیں کہ پاکستان کو اگر قائم رکھنا ہے تو سرائیکی صوبہ بنانا ہوگا اور تمام اکائیوں کو برابر کی بنیاد پر حقوق دینے ہوں گے اور جو معدنی ذخائر جس صوبے میں ہیں ان پر متعلقہ صوبے کا حق مالکیت تسلیم کرنا ہوگا۔ تاہم یہ سیمینار ایسے موقع پر ہوا ہے جب بلوچستان میں شورش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور بعض مسلح گروپ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے بھی کر رہے ہیں۔ قوم پرست رہنما ایسے شدت پسندوں کی کارروائیوں کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ سردار مینگل نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ’ مزاحمت کاروں کو سلام پیش کرتے ہیں‘۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں پیر کے روز بھی دو علیحدہ حملوں میں ایف سی کے پانچ اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں اضافے کے بعد گزشتہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بحث بھی ہوئی تھی جس میں وزیراعظم نے بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔ حکومت سے مذاکرات کے متعلق سوال پر عطاءاللہ خان مینگل کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ باتیں اخباری بیانات میں کی ہیں، کوئی باضابطہ سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ وقت شاید قریب آرہا ہے کہ معاملات بات چیت سے بھی آگے نکل جائیں۔ تاہم انہوں نے اور محمود خان اچکزئی نے پاکستان سے علیحدگی پسندی کی سختی سے تردید کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||