سوئی: 5 سکیورٹی اہلکار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر سوئی میں دو مختلف واقعات میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان زخمیوں میں چھ سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ پیر کی صبح پاکستان پیٹرولیم کے اہلکار دو گاڑیوں میں سندھ کے شہر کشمور جا رہے تھے جن کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کے اہلکار دو علیحدہ گاڑیوں ساتھ جا رہے تھے۔ ایف سی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سڑ ک پر نا معلوم افراد نے ایک ریموٹ کنٹرول بم نصب کر رکھا تھا اور جب ایف سی کے اہلکاروں کی گاڑی ادھر سے گزری تو ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس دوران نا معلوم افراد نے راکٹ داغا اور دیگر اسلحے سے فائرنگ کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی ہے اور قریبی آبادی میں چھپے ہوئے حملہ اوروں کو گھیر ے میں لینے کی کوشش کی ہے لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دریں اثنا ڈیرہ بگٹی سے صحافیوں نے بتایا ہے کہ ایف سی کی جوابی فائرنگ سے مقامی آبادی میں موجود چھ شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ایک گولہ گھر کے اندر گرا جس سے علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مال مویشی کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ رات نا معلوم افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس میں ایک سکیورٹی اہلکار محمد خان ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے ۔ سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی سے حملہ آور فرار ہو گئے لیکن علاقے میں بجلی کی تاروں اور کھمبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے بجلی معطل ہے۔ سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکار ڈی ایس جی سے تعلق رکھتے ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایف سی اور فوج پر حملہ کرنے والے لوگ ملک اور صوبے کے خیر خواہ نہیں ہیں بلکہ یہ وہی ہیں جو صوبے کے مختلف علاقوں میں حملہ کر رہے ہیں اور پھر اسے حقوق کی جنگ کا نام دے دیتے ہیں حالانکہ یہ سب جرم ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف رد عمل ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان سب کا ہے لیکن بعض شخصیات اور خاندان یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان صرف ان کا ہے جس سے یہاں لوگوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے۔ غربت اور بے روزگاری سے لوگ مر رہے ہیں تو انھوں نے اب یہ راستہ اختیار کیا ہے۔ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت واضح موقف اختیار کرے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جب مسلم لیگی قیادت کابینہ اور اپنی جماعت کے اجلاس منعقد کرتے ہیں تو قوم پرستوں کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور یہاں ایوان میں کچھ اور کہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||