بلوچستان آپریشن پر مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے قوم پرست حلقوں میں بھی بلوچستان آپریشن کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سندھ کی قوم پرست تنظیموں نے اپنے روایتی اور فطری حلیفوں سے یکجہتی کے لیے آپریشن کے خلاف احتجاج کے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ جیئے سندہ قومی محا ذ کی جانب سے پیر کو سندھ بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جیئے سندہ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں آپریشن کر کے بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ ”بلوچ ہمارے بھائی ہیں اس مشکل وقت میں ہم ان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔” جیئے سندہ محاذ کی جانب سے دس اگست سے اٹھارہ اگست تک نوابشاہ سے کراچی تک مظاہرے کیے جائیں گے۔ جیئے سندھ محاذ کے چئیرمین اور جی ایم سید کے پوتے سید زین شاہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آپریشن بند کر کے اس میں ملوث افسران کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ درج کیا جائے۔ سندھ نیشنل پارٹی کی جانب سے یوم آزادی کے دن چودہ اگست کو ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ امیر بخش بھنبھرو کا کہنا ہے کہ ”ہم آپریشن کو بلوچ قوم کے خلاف سازش سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائیگا”۔ ان کا کہنا تھا کے ان کی پارٹی احتجاج کے اگلے مرحلے میں عام ہڑتال کی کال دیگی۔
اس طرح سندھ نیشنل کاؤنسل کی جانب سے گیارہ اگست کو بلوچوں سے یکجہتی کا دن منانے کا فیصلے کیا گیا ہے۔ جبکہ بارہ اگست کو پونم سندھ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ جس میں بھی بلوچستان میں جاری آپریشن پر لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ سندھ کے قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو اور ممتاز علی بھٹو بھی آپریشن کی مذمت کر چکے ہیں۔ کراچی میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے ممتاز بھٹو نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن بڑی غلطی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے بھی یہ غلطی کی تھی اور عوام کی بھاری حمایت کے باوجود ان کو اس ”غلط قدم” کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||