BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 July, 2004, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان آپریشن، فائرنگ اور دھماکے

بلوچستان
بلوچستانی حزب اختلاف کے رہنما نے بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نامی تنظیموں کے وجود کے بارے میں حقائق ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے
بلوچستان کے شہر تربت کے قریب پہاڑی علاقے میں فوجی کارروائی جاری ہےاور وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں جبکہ گوادر ہسپتال میں عملے کو چوکس کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے بلوچستان کے علاقے تربت اور گوادر کے سرحدی علاقے میں بم دھماکوں اور راکٹ باری میں ملوث افراد کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر رکھی ہے لیکن تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق دشت گڈن میں بشولی کے پہاڑی علاقے کو فوج نے گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں سے مسلح حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ قریبی آبادی میں گھروں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ گوادر سے آمدہ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے گوادر ہسپتال میں کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے ہیں ہسپتال میں بستروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور مذید عملہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

ادھر ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتانے والے ایک شخص نے خود کو بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند روز کی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کا نقصان ہوا ہے جن میں ہلاکتوں کے علاوہ ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مزاحمت کا دعویٰ
 مبینہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے سکیورٹی فورسز کے نقصان، ہلاکتوں، ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے جس کسی اور ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی

تاہم کسی بھی اور ذریعہ سے ان دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

انھوں نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن سرکاری سطح پر ان تنظیموں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

متعلقہ حکام ان تنظیموں کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ اس کے علاوہ اس فوجی کارروائی کے بارے میں بھی مقامی اور صوبائی انتظامیہ مکمل طور پر خاموش ہے۔ اکثر افسران اس بارے میں لا علمی کا اظہار کرتے ہیں اور یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ مجبور ہیں کچھ نہیں بتا سکتے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور نیشنل پارٹی کے لیڈر کچکول ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کارروائیوں سے عوام کے دلوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف نفرت بڑھے گی۔

انھوں نے کہا کہ بااثر قوتیں جان بوجھ کر حالات خراب کر رہے ہیں اگر لبریشن آرمی یا فرنٹ نام کی تنظیمیں کوئی وجود رکھتی ہیں تو اس کے لیے اسمبلی موجود ہے اس پر بحث کی جا سکتی ہے اور اس کے علاوہ خفیہ ادارے ان تنظیموں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرکے لائیں تاکہ معلوم ہو سکے کے یہ تنظیمیں کیا ہے اور کون لوگ اس میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد