بلوچستان: سرکاری اہلکار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ کوہلو کے مضافات میں منگل کی صبح نامعلوم افراد اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے مابین بھاری اسلحے سے شدید فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔ کوئٹہ سے کوئی تین سو پچاس کلومیٹر دور مشرق میں کوہلو کے علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے گئے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے ۔ صبح ایک قبائلی رہنما کے گھر کے قریب اور فرنٹیئر کور کے کیمپ پر نا معلوم افراد نے بڑی تعداد میں راکٹ فائر کیے۔ سات راکٹ ایف سی کے میوند رائفل کےکیمپ میں گرے جس سے ایک اہلکار محمد خان ہلاک ہو گیا۔ کوہلو سے آمدہ اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جن میں لیویز یعنی علاقائی پولیس اور ایف سی شامل ہے ایک دوسرے پر بھاری اسلحے سے حملے کرتے رہے۔ اس وقت ایف سی کی لگ بھگ پانچ سو افراد پر مشتمل فورس علاقے میں تعینات ہے جبکہ ایف سی کے ترجمان کے مطابق مزید کُمک طلب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ کوہلو میں قبائلی آپس میں لڑ رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار وہاں امن قائم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میر ہزار خان بجرانی کے گھر پر نا معلوم افراد نے حملہ کیا تھا جس کے بعد لیویز اور ایف سی نے جوابی کارروائی کی ہے۔ لیویز کے ڈائریکٹر میجر انجم نے کہا ہے کہ علاقے میں بعض لوگ خوف کی فضا قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اس وجہ سے گاہے بگاہے لیویز اور ایف سی کے اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ لوگ علاقے میں ترقی نہیں چاہتے۔ یاد رہے کہ اتوار کی دوپہر سے اس علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی ہے جب لیویز کے اہلکاروں نے شدت پسندوں کے ایک گروہ کو مبینہ طور پر گھیرے میں لے لیا تھا جس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ ہوئی۔ اس واقعہ میں لیویز کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ ایف سی اور لیویز کے افسران نے تین شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا حملہ آور بھاگتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ساتھ لے گئے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے سوئی اور کوہلو میں راکٹ داغنے اور دیگر اسلحہ سے فائرنگ کے واقعات معمول بن چکے ہیں خاص طور پر جب سے حکومت نے ان علاقوں میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتیں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کی مخالفت کررہی ہیں۔ نواب اکبر بگٹی نے گزشتہ دنوں بی بی سی کو بتایا تھا کے ان واقعات میں اشتعال دلانے والے ایجنٹ ملوث ہیں جو حالات خراب کرکے فوجی چھاؤنیوں کے قیام کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||