گوادر میں دھماکے سنے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچسستان کے ساحلی شہر گوادر میں بدھ کو صبح تین دھماکے ہوئے ہیں لیکن کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ گوادر پولیس نے کہا ہے کہ یہ پٹاخے تھے کوئی بم وغیرہ نہیں تھے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔ گوادر سے آمدہ اطلاعات کے مطابق تین دھماکے فش ہاربر بلوچستان ریزرو پولیس کے کیمپ اور ایس ڈبلیو کمپلیکس کے قریب ہوئے ہیں جس سے علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ مقامی صحافی بہرام بلوچ نے بتایا ہے کہ دھماکوں کے بعد انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار موقع پر پہنچ گئے جبکہ گوادر پورٹ پر کام کرنےوالے چینی اور مقامی عملے کے افراد اپنے دفاتر تک محدود ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ میرین سیکورٹی ایجسنی اور نیوی نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کردیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ تین مئی کو گوادر میں ایک کار بم دھماکے سے تین چینی انجنیئر ہلاک اور دو پاکستانیوں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد سے علاقے میں حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں۔ مئی کے آخر میں نامعلوم افراد نے ایئرپورٹ کے علاقے میں کئی راکٹ فائر کئے تھے جس سے ایک شخص زخمی ہو گیا تھا اسی طرح گوادر کے قریب مند کے علاقے میں وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کے گھر اور سکول کے قریب کئی راکٹ فائر کیے گئے تھے جس سے ایک نوجوان ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ تین روز قبل نامعلوم افراد نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں ایئرپورٹ کی عمارت اور ٹاور کو نشانہ بنا کر منہدم کر دیا تھا جس وجہ سے ایئر پورٹ پر پی آئی اے کی پروازیں معطل ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ سوئی ایئرپورٹ کی حفاظت کے لئے صرف دو چوکیدار تعینات تھے جنھیں گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ دونوں افراد مقامی بتائے گئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں جب سے تین نئی چھاؤنیوں کے قیام کا اعلان ہوا ہے صوبے کے بیشتر علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں جہاں سے آئے روز راکٹ فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ یہ تین فوجی چھاؤنیاں گوادر، سوئی اور کوہلو میں قائم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ بلوچ قوم پرست جماعتیں ان چھاؤنیوں کے قیام کی مخالفت کر رہی ہیں اور اس بابت بلوچستان اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد پاس کر رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں مزید چھاؤنیوں کے قیام کی ضرورت نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||