سوئی، راکٹ اور فائرنگ کا تبادلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر سوئی میں نا معلوم افراد اور فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں کے مابین راکٹ فائرنگ اور دیگر اسلحہ کے تبادلے کے نتیجے میں ہوائی اڈہ کی بلڈنگ اور رن وے کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے بعد تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اس کے علاوہ تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ شہر میں بجلی کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا ہے کئی مقامات پر بجلی کے کھمبےاکھڑ گئے ہیں اور تاریں گرگئی ہیں۔ فائرنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ مقامی افراد نے بتایا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ فائرنگ میں پہل کس نے کی ہے تاہم کچھ راکٹ ایف سی کچھ قلعہ کے قریب گرے ہیں۔ ایف سی کی جوابی کارروائی سے قریبی رہائشی علاقوں میں خوف پایا جاتا ہے جہاں سے یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ تین افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن کہیں سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لوگ ڈر کے مارے نہ تو پولیس سے رابطہ کرتے ہیں اور نہ ہسپتال جاتے ہیں کیونکہ بقول ان کے ایف سی کے اہلکار ان پر جھوٹے مقدمے بنا دیتے ہیں۔ راکٹ فائرنگ سے سوئی ہوائی اڈہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق عمارت گر گئی ہے اور رن وے پر گڑھے پڑ گئے ہیں۔ہوائی اڈہ کو بند کر دیا گیا ہے اور تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ سوئی کے تحصیلدار خدا بخش نے بتایا ہے کہ رات گئے تک بڑی تعداد میں راکٹ داغے گئے ہیں انھوں نے کہا ہے کہ گیارہ کے وی کی بجلی کی لائن کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس وجہ سے علاقے میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ تحصیلدار نے کہا ہے کہ زخمیوں کے بارے میں تاحال کہیں سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ گورنر بلوچستان اویس احمد غنی کل یعنی پیر کے روز سوئی کا دورہ کریں گے جہاں انھیں حالات سے آگاہ کیا جائے گا لیکن ان کے شیڈول میں نواب اکبر بگٹی سے ملاقات شامل نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جب سے بلوچستان میں تین نئی فوجی چھاونیوں کے قیام کی باتیں ہو رہی ہیں بلوچستان کے اکثر علاقوں میں امن و امان ک صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ سوئی کوہلو اور جعفر آباد کے علاقوں میں راکٹ فائرنگ کے واقعات معمول بن چکے ہیں حکومت سوئی کوہلو اور گوادر میں فوجی چھاونیاں قائم کرنا چاہتی ہے جبکہ جعفر آباد اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں ایف سی اور پولیس مشترکہ چوکیاں اور تھانے قائم کیے جا رہے ہیں جس کی وہاں بعض قوتیں مخالفت کر رہی ہیں۔ یہاں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ زیر تعمیر چوکیوں اور تھانوں پر راکٹ فائرنگ کے واقعات کے بعد کام کرنے والے مزدور بھاگ گئے ہیں اور چھاونیوں کی تعمیر کا کام وقتی طور پر معطل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||