بلوچستان: عالمی امدادی ادارے بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں القاعدہ اور طالبان کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کے بعد بین الاقوامی امدادی اداروں نے دفاتر بند کر دیے ہیں اور غیر ملکی عملے کے بیشتر ارکان اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار ان امدادی اداروں کے دفاتر اور گھروں پر تعینات کر دیے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے لیے ادویات کے شعبے میں کام کرنے والے امدادی ادارے میڈیسن سین فرنٹیئرز کے ایک غیر ملکی اہلکار نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں اور دفاتر بند کر دیے ہیں جبکہ وہ خود اب اسلام آباد جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی امدادی اداروں کے اہلکاروں کا اجلاس بدھ کو ہو گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دریں اثنا انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان یعقوب چوہدری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غیر ملکیوں کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں ان کے دفاتر اور گھروں پر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ انہیں کہا گیا ہے کہ کہیں آنے جانے کے لیے پولیس کو ضرور مطلع کریں تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس طر ح کی دھمکیاں ماضی میں بھی ملتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ افغان کمشنر نے امدادی اداروں کو خطوط بھیج کر خوف کی فضا قائم کی ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے پولیس اپنی طرف سے بھر پور کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ یہاں القاعدہ اور طالبان موجود ہیں یا نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ماضی میں اس طرح کی اکثر دھمکیاں بے اثر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں القاعدہ اور طالبان نے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ اس بارے میں حکومت نے ان تنظیموں سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کوئٹہ میں ترجمان با بر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے افغان کمشنریٹ کی طرف سے بین الاقوامی امدادی اداروں کو ایک خط جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ اور طالبان ان تنظیموں کے دفاتر یا کارکنوں پر حملے کر سکتے ہیں۔ اس خط کے بعد ان اداروں نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ تب تک دفاتر نہ آئیں جب تک کہ انہیں آنے کا کہا نہ جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||