عالمی اداروں پر حملے کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں القاعدہ اور طالبان نے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اس بارے میں حکومت نے بھی ان تنظیموں کو محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔ پاکستان کے ایک حساس ادارے نےافغان سرحد کےقریب صوبہ بلوچستان میں کام کرنے والے عالمی امدادی اداروں کومتنبہ کیا ہے کہ طالبان خود کش حملہ آور انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کوئٹہ میں ترجمان بابر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان کمشنریٹ کی طرف سے بین الاقوامی امدادی اداروں کو ایک خط جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ اور طالبان ان تنظیموں کے دفاتر یا کارکنوں پر حملے کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں کام کرنےوالی امریکی اور برطانوی امدادی تنظیموں کو بھی حملے کے خطرے سے متنبہ کیا ہے۔ اس خط کے بعد ان اداروں نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک دفتروں کو نہ جائیں جب تک انہیں آنے کا کہا نہ جائے۔ بابر بلوچ نے کہا ہے کہ ان اداروں کے حکام اس وقت سکریٹری داخلہ سے بات چیت کر رہے ہیں تا کہ آئندہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ یہ مذاکرات اتوار کے روز بھی جاری رہیں گے۔ بابر بلوچ نے بتایا ہے کہ ان تنظیموں کے کارکنوں کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس حوالے سے یہ مذاکرات پر منحصر ہے کہ کن اقدامات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں کئی بین الاقوامی امدادی ادارے کام کر رہے ہیں اور ان میں بیشتر کے دفاتر پاکستان کے شہروں کوئٹہ اور پشاور میں بھی قائم ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ایک خاتون رکن کو غزنی کے قریب حملہ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا جس کے بعد ادارے نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے جنوبی علاقوں میں بین الاقوامی اداروں کے دفاتر اور کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ القاعدہ اور طالبان کی یہ دھمکیاں افغانستان میں وقتاً فوقتاً سننے میں آتی رہی تھیں لیکن پاکستان میں ان اداروں کو اس طرح کی دھمکیاں پہلی مرتبہ دی گئی ہیں جس کا حکومت نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور اس بارے میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ بلوچستان کے پناہ گزین کیمپ میں رہنے والا ایک طالبان جنگجو ان امدادی تنظیموں کوخود کش حملے کا نشانہ بنا سکتا ہے جن میں امریکی اور برطانوی باشندے کام کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد تقریباً تیس لاکھ افغانوں نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ان میں سے زیادہ ترصوبہ بلوچستان اور سرحد کے مہاجر کیمپوں میں تھے۔ لیکن کابل میں طالبان کے خاتمے اور کرزئی حکومت بننے کے بعد بیشتر پناہ گزین واپس افغانستان جا چکے ہیں تاہم کافی تعداد میں پناہ گزین اب بھی صوبہ بلوچستان میں موجود ہیں۔ دریں اثناء امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کے جنوب میں موجود امریکی فوج پر حملوں میں مزید تیزی آگئی ہے۔ ایک امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ حملوں میں تیزی کی وجہ امریکی فوج کے طالبان کے خلاف جارحانہ آپریشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان ملیشیا پاکستان کے بجائے ملک کے اندر ہی سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی فوجیں افغانستان کے شمال میں بھی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں سوچ بچار کر رہی ہے۔ جمعہ کی رات امریکی فوجیوں اور افغان ملیشیا کے درمیان جھرپ میں سترہ افغان مارے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||