BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 June, 2004, 18:07 GMT 23:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر: قوم پرست یومِ سیاہ منائیں گے

گوادر
قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہیں اعتماد میں لیے بغیر سرمایہ کاری نہیں بڑھائی جا سکتی
بلوچستان میں گوادر میگا پراجیکٹ کے حوالے سے ایک طرف سرکاری سطح پر اس منصوبے کے حق میں مہم جاری ہے جبکہ دوسری جانب بلوچ قوم پرست جماعتیں اس منصوبے کے خلاف ہیں اور جمعہ کو یوم سیاہ منا رہی ہیں۔

آج گوادر میں وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال اور بلوچستان کے صوبائی وزاراء نے ایک عوامی جلوس کی قیادت کی ہے اور قوم پرست جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے۔

زبیدہ جلال نے بلوچی زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم پرست قوتیں اپنے لیے تو ترقی چاہتے ہیں لیکن اب عوام کے لیے ترقی کی راہیں کھلی ہیں تو ان قوتوں نے مخالفت شروع کر دی ہے۔

زبیدہ جلال نے اس موقع پر ٹیکنیکل کالجوں کے قیام کا اعلان کیاہے اور کہا ہے کہ مقامی افراد کو تربیت دے کر انھیں ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔

مقامی صحافی بہرام بلوچ نے کہا ہے کہ ان کالجز کے قیام کا اعلان صدر جنرل پرویز مشرف نے گوادر میگا پراجیکٹ کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پرکیا تھا لیکن ان کی تعمیر پر عملی کام تاحال شروع نہیں ہوا ہے۔ زبیدہ جلال کے اعلان پر بھی مقامی سطح پر زیادہ جوش کا اظہار نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب چار بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو صوبہ بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھی جائیں گی۔

نیشنل پارٹی کے لیڈر اور بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں میں بیشتر افراد اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں اور اب ریلیوں کے ذریعے وہ کام کر رہے ہیں جن کے لیے انھیں یہاں لایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ گوادر میں منصوبے پر سرمایہ کاری اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ قوم پرست قوتوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ سرمایہ کار کی مثال چڑیا کی طرح ہوتی ہے اگر ایک معمولی پٹاخہ بھی پھٹتا ہے تو چڑیا اڑ جاتی ہے اور سرمایہ کار بھاگ جاتا ہے۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال اس کی واضح مثال ہے۔

قوم پرست جماعتوں کے اتحاد میں نواب اکبر بگٹی کے جماعت جمہوری وطن پارٹی سردار عطاءاللہ مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی جماعت نیشنل پارٹی اور نواب خیر بخش مری کی جماعت حق توار شامل ہیں۔یہ اتحاد گوادر میگا پراجیکٹ اور بلوچستان میں فوجی چھاونیوں کے قیام کی مخالفت کر رہا ہے اور اس بارے میں جمعہ کے روز سے تحریک شروع کی جارہی ہے۔ یوم سیاہ کے بعد اگست میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی جبکہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ساتھ مل کر احتجاج کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد