BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 June, 2004, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی چھاؤنیوں کے قیام پر بحث

News image
صوبہ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے امن و امان کی صورتحال ابتر ہے
بلوچستان اسمبلی میں جمعرات کو فوجی چھاؤنیوں کے قیام پر زبردست بحث ہوئی۔ مجلس عمل اور مسلم لیگ کے اراکین نے تحریک استحقاق کی مخالفت کی، جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا موقف تھا کہ بلوچستان اسمبلی کی متفقہ قرارداد کے باوجود کوہلو، سوئی اور گوادر میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کی کوششیں جاری ہیں جس سے ایوان میں موجود اراکین کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔

بلوچستان میں ان دنوں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کے حوالے سے مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے جمعرات کو ایوان میں مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور جنرل سے پوچھا جائے کہ قرار داد کی منظوری کے باوجود چھاؤنیوں کے قیام پر کام کیوں جاری ہے۔

کچکول علی نے صحافیوں سے کہا ہے کہ اگر حکومتی اراکین ذرا ہمت سے کام لیتے تو ہم وفاقی وزیر دفاع کو طلب کر سکتے تھے اور ان سے پوچھ سکتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کے ان کی قرارداد کو نظر انداز کی جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایسی صورت میں جب مقامی لوگوں کا استحصال ہو رہا ہو تہ وہ کیا کریں گے۔ حکومتی اراکین کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں سلام کے علاوہ اور کچھ آتا بھی نہیں ہے۔

مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ قوم پرست جماعتیں پنجاب، جرنیلوں اور دیگر مقتدر قوتوں کے لیے کام کرتی ہیں جو اس صوبے کو پسماندہ ہی رکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بھی کہیں ترقی ہوتی ہے تو یہ لوگ ان قوتوں کے لیے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ببانگ دہل کہتے ہیں کہ وہ ترقی نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس تحریک کے بارے میں مجلس عمل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اس کے علاوہ یہ ترقی کے مخالف ہیں اور اگر امن قائم کرنے کے لیے پولیس یا فوج آتی ہے تو اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مجلس عمل آئندہ حالات کے مطابق طرز عمل اختیار کرے گی اور کسی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں جب سے چھاؤنیوں کے قیام کی باتیں شر وع ہوئی ہیں صوبے کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور راکٹ فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ان میں سوئی کوہلو اور گوادر شامل ہیں اور یہی وہ علاقے ہیں جہاں وفاقی حکومت چھاؤنیاں قائم کرنا چاہتی ہے۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ اول تو صوبے میں ایسی حالت نہیں ہے کہ فوج لائی جاِئے اور اگر خدا ناخواستہ ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو بلوچستان کے تمام لوگ اس کا دفاع کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی چھاؤنیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کا مقصد بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چھاؤنیاں امن قائم کرسکتیں تو کراچی اور کوئٹہ میں سب سےبڑی چھاؤنیاں قائم ہیں لیکن حالات بھی وہیں سب سے زیادہ خراب ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد