تربت میں راکٹ حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ تربت کے قریب مند میں نامعلوم افراد نے راکٹ داغے ہیں جس سے ایک شخص ہلاک جبکہ ایک عورت اور چار بچے زخمی ہوئے ہیں۔ پیر کی صبح نامعلوم افراد نے مکران سکاؤٹس اور وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کے سکول کے قریب کئی راکٹ داغے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق تقریباً پچیس راکٹ داغے گئے ہیں جن میں بیشتر کھلے میدان میں گرے جبکہ ایک راکٹ قریبی گھر میں گرا جس سے اہل خانہ زخمی ہوئے ہیں۔ تربت ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اکبر قیوم نے بتایا ہے کہ ایک شخص ہلاک جبکہ ایک ہی گھر کی ایک خاتون اور چار بچے زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک بچے کو زیادہ زخم آئے ہیں۔ مند شہر کوئٹہ سے تقریباً ایک ہزار کلو میٹر دور ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے اور مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ مئی کے آغاز اور وسط میں بھی گوادر میں دھماکے اور راکٹ فائر کیے گئے تھے جن میں تین چینی اہلکار ہلاک اور دو پاکستانیوں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد گوادر ایئرپورٹ کے قریب راکٹ داغے گئے تھے جس سے ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں آئے روز درجنوں راکٹ فائر کیے جاتے ہیں اور اعلیٰ حکام کے بقول فرنٹیئر کور جوابی کارروائی میں راکٹ فائر کرتی ہے۔ گوادر اور سوئی ان تین علاقوں میں شامل ہیں جہاں حکومت فوجی چھاؤنیاں بنانے کا ارداہ رکھتی ہے لیکن قومی سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں جن میں قوم پرست جماعتیں نمایاں ہیں۔ علاقائی پولیس یا لیویز کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ رات تین سے چاربجے کے درمیان راکٹ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا ہے کہ کچھ راکٹ فرنٹیئر کور کے خاران رائفل کے ہیڈکوارٹر وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کے گھر اور سکول کے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹر میں گرے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے علاقے میں حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں ناکہ بندی کردی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کسی نا معلوم شخص نے اپنے آپ کو آزاد بلوچ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نے مشترکہ طور پر کی ہے اور ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کی کچھ کارروایئوں کی زمہ داری یہ تنظیمین قول کر چکی ہے۔ ان تنظیموں کے بارے میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کا کوئی وجود نہیں ہے تاہم حال ہی میں کوئٹہ سے تبدیل ہونے والے انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل نے کہا تھا کہ ایسی تنظیموں کے فون موصول ہوتے رہتے ہیں اور ان کے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||