کوئٹہ: حملے میں پندرہ زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں ریموٹ کنٹرول سائیکل بم کے دھماکے سے پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے تیرہ اہلکار شامل ہیں۔ پولیس افسران نے کہا ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعہ شام ساڑھے چاربجے کے قریب پیش آیا جب فرٹیئر کانسٹیبلری اور بلوچستان ریزرو پولیس کے دستے ڈیوٹی پر تعیناتی کے لیے آرہے تھے۔ جونہی ان کا ٹرک رُکا ایک زور دار دھماکہ ہوا اور بقول زخمیوں کے تھوڑی ہی دیر بعد ایک دوسرا دھماکہ بھی ہوا۔ ان دھماکوں سے سات ایف سی اور چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو راہگیروں کو بھی چوٹیں آئی ہیں۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں جہانگیر خان اور شعیب نے بتایا ہے کہ ان سب سولہ اہلکاروں کا تعلق صوبہ سرحد کے علاقے کوہاٹ کے ایک گاؤں سے ہے اور اکثر آپس میں رشتہ دار ہیں۔ یہ لوگ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اسی وقت اس روڈ پر آتے تھے اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ حملہ آوروں نے ان کے آنے جانے کے اوقات کو مد نظر رکھتے ہوئے حملہ کیا تھا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ پرویز بھٹی نے کہا ہے کہ حملوں میں ریموٹ کنٹرول بم استعمال ہوئے اور ان دھماکوں کے پیچھے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ گوادر اور اس دھماکے کا آپس میں کچھ تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ ’کڑیاں ضرور ملتی ہیں‘ تاہم گوادر میں استعمال ہونے والا بم زیادہ طاقتور تھا جبکہ یہ دیسی ساخت کا بم تھا۔ انہوں نے کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کے بارے میں کہا ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سائیکل بم دھماکے کا کوئٹہ میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک سائکل بم دھماکے میں تین افراد زخمی ہو گئے تھے جن میں ایک پولیس اہلکار شامل تھا۔ اس سے پہلے گزشتہ سال جون میں سریاب روڈ پر نامعلوم افراد نے پولیس کیڈٹس کی گاڑی پر حملہ کر دیا تھا جس میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے بارہ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور راکٹ فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں گوادر کا بم دھماکہ اہم ہے جس میں تین چینی انجنیئر ہلاک اور دو پاکستانیوں سمیت گیارہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا ہے کہ ان دھماکوں کے بارے میں کچھ شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر تحقیقات جا ری ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||