کوئٹہ میں پادری کا ’اغوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں نا معلوم افراد نے پادری ولسن فضل کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔ پولیس اور اقلیتی برادری کے نمائندوں کے مطابق فادر ولسن کو کچھ روز قبل دھمکی آمیز خطوط ملے تھے جن میں انہیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ادارے بند کردیں اور سرگرمیاں محدود کر دیں۔ آسیہ ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بارے میں صوبائی حکومت اور پولیس کو مطلع کر دیا تھا۔ صوبائی وزیر اقلیتی امور جے پرکاش اور مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے حکومت سے کہا ہے کہ اگر انہیں اڑتالیس گھنٹے کے اندر بازیاب نہ کرایا گیا تو وہ زبردست احتجاج کریں گے۔ جب سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوئٹہ رحمت اللہ نیازی سے اس بارے میں معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی اس شکایت کے بعد فادر ولسن کو دو مسلح محافظ فراہم کر دیئے گئے تھے لیکن فادر ولسن انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھتے تھے بلکہ محافظ گھر پر تعینات رہتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح فادر ولسن اپنے بیٹے اور برادری کے لوگوں کے ساتھ گئے تو واپسی پر راستے میں یہ کہہ کر اتر گئے کہ وہ برادری کے کچھ لوگوں سے ملنے جار ہے ہیں تاکہ انہیں اتوار کی عبادت کے لیے راغب کر سکیں۔ اس کے بعد فادر ولسن واپس گھر نہیں آئے۔ آسیہ ناصر نے بتایا ہے ان کے گھر والوں نے شام تک ان کا انتظار کیا اور بعد میں پولیس کے پاس رپورٹ درج کرادی۔ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اقلیتی امور جے پرکاش، رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر اور صوبائی وزیر مولانا فیض محمد نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فادر ولسن کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر بازیاب کرایا جائے ورنہ وہ زبردست احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ تمام اقلیتی ارکان کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جو سوموار کو منعقد ہو گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس سے پہلے اتوار صبح اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ایک اخباری کانفرنس میں اقلیتوں کے خلاف پر تشدد واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کے پاکسان بھر میں ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن میں بلوچستان بھی شامل ہے۔انہوں نے کہ ہے کہ اس بارے میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کراچی میں اجلاس معنقد کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||