کوئٹہ: میلادالنبی پر سخت انتظامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس حکام کے مطابق عید میلادالنبی کے جلوسوں کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کی بھاری نفری جس کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے شہر میں تعینات ہے۔ پولیس کی گشتی ٹیمیں علاقے میں متحرک ہیں جبکے فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے اور فوج کو چوکس رکھا گیا ہے۔ کوئٹہ شہر میں عید میلادالنبی کے دو بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ ایک جلوس کے قائدین کے ساتھ انسپکٹر جنرل پولیس ملاقات کرکے جلوس کے لیے نیا راستہ منتخب کیا ہے تاکہ گنجان آباد اور تجارتی مراکز کے قریب سے جلوس نہ گزرے۔ جبکہ اتوار کو ڈی آئی جی پولیس کو دوسرے جلوس کے قائدین کے ساتھ مل کر اخباری کانفرنس سے خطاب کرنا تھا اور ان کے جلوس کے لیے نئے راستے کا اعلان بھی کرنا تھا لیکن احتلافات کی وجہ سے اخباری کانفرنس رات گئے تک منعقد نہیں ہو سکی اور نہ ہی پولیس حکام نے اس بارے میں کوئی واضح اعلان کیا ہے۔ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود اتوار کو نامعلوم شخص نے ایک پولیس گاڑی پر دستی بم پھینکا ہے جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس صدر حامد شکیل نے بتایا ہے کہ یہ پولیس گاڑی مرمت کے لیے سریاب روڈ پر پل کے قریب لائی گئی تھی جہاں ایک نامعلوم شخص نے ایک دستی بم گاڑی پر پھینک کر موقع سے فرار ہو گیا ہے۔ دستی بم کے پھٹنے سے زور دار دھماکہ ہوا ہے جس سے علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ کوئٹہ میں دو مارچ کو عاشورہ کے جلوس پر حملے میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ڈیڑھ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے علاقے میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ مذہبی جلوسوں کی شہر سے گزرنے پر پابندی عائد ہو نا چاہیے۔ جبکہ دوسرا موقف یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جلوسو ں پر اگر حملوں کی وجہ سے پابندی عائد کی جا رہی ہے تو کل مسجدوں اور عبادت گاہوں میں عبادت کرنے پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||