گوادر بم حملہ: تین چینی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں تین چینی انجینیئر ہلاک ہو گئے ہیں۔ گوادر میں عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکہ صبح آٹھ بجکر بیس منٹ پر اس وقت ہوا ہے جب چینی کارکن فش ہاربر سے کام کے لیے جا رہے تھے۔ ان کی گاڑی جب ساحل سمندر کے قریب سڑک پر کھڑی ایک گاڑی کے قریب پہنچی تو اچانک ایک زبردست دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑیوں کے ٹکڑے دور دور تک بکھرگئے۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ بم قریب کھڑی گاڑی میں رکھا گیا تھا اور یہ ریموٹ کنٹرول بم معلوم ہوتا ہے۔ سول ہسپتال گوادر کے ڈاکٹر اسلم نے بتایا ہے کہ اس واقعہ میں تین چینی کارکن ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار چینی کارکن زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے اس لئے انہیں کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تین مقامی افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں ڈاکٹروں کے مطابق طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ گوادر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تمام انتظامی افسران اس وقت ایئرپورٹ پر موجود ہیں جہاں نیوی اور پی آئی اے کے طیارے پہنچ رہے ہیں جن میں زخمیوں کو کراچی منتقل کرنا ہے اور لاشوں کو کراچی پہنچانا ہے۔ عینی شاہد انور نے بتایا کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے جس کے بعد شہر میں ایک خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ واقعہ خودکش حملہ تھا یا بم کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا تھا۔
گواردر پولیس چیف ستار لسی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ بم نصب کی گئی گاڑی بندرگاہ کے قریب کھڑی تھی اور جونہی بس اس کے پاس سے گزری تو زوردار دھماکہ ہوا۔ صوبہ بلوچستان کے پولیس چیف شعیب سڈل نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ بم ریموٹ کنٹرول کی مدد سے اڑایا گیا ہو۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گوادر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے آٹھ مئی کو کوئٹہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اور وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کا ایشیائی ممالک کے دورے کا ایک مقصد ان ممالک سے سرمایہ کاروں کو مدعو کرنا تھا۔ گوادر میں اس وقت ڈیپ سی پورٹ پر چین کے ماہرین اور کارکن کام کر رہے ہیں۔ گوادر میں جاری منصوبے کو حکومت ایک میگا پراجیکٹ قرار دے چکی ہے اور اسے پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس کچھ سیاسی جماعتوں کو اس منصوبے پر خدشات لاحق ہیں۔ ان کے مطابق گوادر میں مقامی افراد کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور یہ کہ بلوچستان کے مقامی افراد کو روزگار نہیں دیا جا رہا اور وفاقی حکام صوبہ بلوچستان کو نظر انداز کر کے براہ راست گوادر میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں کچھ روز قبل حزب اختلاف اور بعض حزب اقتدار کے اراکین نے حکومت سے کہا تھا کہ گوادر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں کسی رکن کو حقیقت معلوم نہیں ہے اور نہ ہی گوادر کے منصوبے کا ماسٹر پلان کسی کو دکھایا گیا ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ متعلقہ حکام عنقریب اراکین کو اس بارے میں آگاہ کریں گے۔ یاد رہے کہ کراچی میں واقع شیریٹن ہوٹل کے باہر ایک بس کو، جس میں فرانسیسی انجینیئروں سوار تھے، آٹھ مئی سن دو ہزار دو میں خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں گیارہ فرانسیسی ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||