BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 April, 2004, 22:56 GMT 03:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس کا قصور نہیں، قاتل اور تھے

احتجاج
بچیوں کے اغوا پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
کراچی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے آٹھ سالہ ہاجرہ اور پانچ سالہ سسی کے چار مبینہ قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس سے قبل چار پولیس اہلکاروں کو اس واقعہ میں ملوث قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔تاہم پولیس کے مطابق ان اہلکاروں کا قصور نہیں تھا اور مقتولین کے رشتہ دار قتل میں ملوث تھے۔

دونوں کم سن بچیوں کو فروری کے تیسرے ہفتے میں اغوا کیا گیا تھا اور جب ان بچیوں کے والدین نے علاقے کے گڈاپ تھانے سے رابطہ کیا تو پولیس نے نہ تو کوئی مقدمہ درج کیا اور نہ ہی بچیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔

تین دن بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں اسی گڈاپ تھانے کے نزدیک پائیں گئیں۔ گڈاپ کا علاقہ کراچی شہر کے نواح میں واقع ہے۔

لاشوں کے برآمد ہونے کے بعد علاقے کے لوگوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور پولیس کے خلاف احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کا الزام تھا کہ تھانے کے چند اہلکار ان بچیوں کے اغوا، آبرو ریزی اور قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

سندھ حکومت نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے چار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد تھانہ انچارج انسپکٹر منیر پھلپوٹو اور سب انسپکٹر اشتیاق حسین کو گرفتار کر لیا تھا۔

گڈاپ تھانے میں مشتبہ افراد کے خلاف دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔

اب بدھ کے روز انسپکٹر جنرل سندھ پولیس سید کمال شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے ان بچیوں کی بے حرمتی اور انھیں قتل کرنے والے چار مبینہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملزمان آپس میں رشتہ دار ہیں اور ان میں ایک والد اور اس کے دو بیٹے بھی شامل ہیں۔یہ افراد قتل شدہ بچیوں کے بھی رشتہ دار ہیں۔

سید کمال شاہ نے کہا کہ ’والد کو اس واقعہ اور اپنے بچوں کے اس میں شامل ہونے کا مکمل پتہ تھا۔ یہ شخص پولیس کے خلاف احتجاج میں آگے آگے تھا۔‘

ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ان کا بارہ اپریل تک جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

اس مقدمہ کے تفتیشی افسر میر زبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ’ چونکہ اب اصل ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں اس لئے پولیس افسران کے خلاف قتل کا درج مقدمہ واپس لے لیا جائے گا۔ لیکن بچیوں کے اغوا کے بعد فرائض میں غفلت برتنے اور صحیح تفتیش نہ کرنے کا معاملہ عدالت میں چلے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد