آبرو ریزی قتل، پولیس کا ریمانڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ میں پولیس نے دو کم سن بچیوں کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار کئے گئے دو پولیس اہلکاروں کا ریمانڈ لیا جبکہ مزید دو اہلکار ابھی تک فرار ہیں۔ پولیس حکام نے ایک اعلٰی افسر میر زبیر کی قیادت میں ایک تفتیشی ٹیم قائم کردی ہے۔ میر زبیر کا کہنا ہے کہ بچیوں کی ہلاکت کے مقدمے میں نامزد ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ فی الحال انھیں قتل کے مقدمے میں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ آٹھ سالہ ہاجرہ اور پانچ سالہ سسی گزشتہ جمعہ کو لاپتہ ہوگئی تھیں۔ جب ان بچیوں کے والدین نے علاقے کے گڈاپ تھانے سے رابطہ کیا تو پولیس نے نہ تو کوئی مقدمہ درج کیا اور نہ ہی بچیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ گمشدہ بچیوں کی لاشیں پیر کی شپ گڈاپ پولیس سٹیشن کے نزدیک برآمد کی گئیں۔ گڈاپ کا علاقہ کراچی شہر کے نواح میں واقع ہے۔ لاشوں کے برآمد کئے جانے کے بعد علاقے کے لوگوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور پولیس کے خلاف احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کا الزام تھا کہ تھانے کے چند اہلکار ان بچیوں کے اغوا، آبرو ریزی اور قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ سندھ کے گورنر عشرت العباد نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو مشتبہ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے گڈاپ قصبے کے ایک پولیس افسر کو غفلت برتنے کے الزام پر معطل بھی کردیا ہے۔ چار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد ان میں سے دو گرفتار شدگان کا چار دن کا ریمانڈ لیا جارہا ہے۔ ان میں تھانہ انچارج انسپکٹر منیر پھلپوٹو اور سب انسپکٹر اشتیاق حسین شامل ہیں جبکہ ایک اے ایس آئی تنون کمار اور ہیڈ کانسٹیبل راؤ طاہر فرار ہیں۔ حکام کے مطابق لاشوں کی طبی رپورٹ کے بعد مزید کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔ پولیس کو ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار ہے۔ گڈاپ تھانے میں مشتبہ افراد کے خلاف دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ دوسری ایف آئی آر میں بچیوں کے ورثاء نے انسپکٹر سمیت چار ملزمان کو نامزد کیا ہے اور یہ اغوا، قتل اور سازش کے تحت درج کی گئی ہے۔ اس مقدمے میں ابھی تک کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||