BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 February, 2004, 20:43 GMT 01:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانونی لاقانونیت یا لاقانونی قانون

پولیس
ملزم پولیس اہل کار پھلپوٹو عدالت لائے جانے کے موقعہ پر
کراچی میں ایک تھانے کے سامنے کلف لگے کپڑوں میں ملبوس، کچھ لوگوں کےساتھ کھڑا، ا یک شخص مزے سے سگریٹ کے کش لے رہا ہے۔ یہ ایک ملزم ہے۔ یہ پولیسں کا ایک انسپیکٹر ہے۔ اور پولیس کے دعویٰ کے مطابق گرفتار ہے۔ چند روز پہلے ایک عدالت سے اس کا ریمانڈ بھی لیا جا چکا ہے۔

وہاں سے کچھ دور، ایک دوسرے تھانے سے ملحق کمپاونڈ میں جھاڑیوں میں دو بچیوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ یہ لاشیں یہاں تین دن پڑی رہیں۔ ان بچیوں کے والدین انہیں تلاش کرتے رہے اور اس عرصے میں بے گور و کفن لاشوں کو جانور کھاتے رہے۔ یہ ہاجرہ اور سسّی کی لاشیں ہیں جو تا حال نامعلوم افراد کی بربریت کا شکار ہوئی ہیں۔

ہاجرہ اورسسّی کے گھر والوں نے گڈاپ تھانے کے ایس ایچ او انسپیکٹر منیر احمدپھلپوٹو، سب انسپیکٹر اشتیاق حسین، اسسٹنٹ سب انسپیکٹر دیون کمار اور ہیڈ کانسٹیبل راؤ طاہر کے خلاف اغوا اور قتل کا مقدمہ درج کرادیا ہے۔

ان کا الزام ہے کہ آٹھ سالہ ہاجرہ اورپانچ سالہ سسّی کو پولیس اہلکاروں نے قتل کیا ہے۔

پولیس نے مقدمہ درج تو کرلیا مگر اب تک اعلٰی حکام کے چہیتے پولیس اہلکاروں کو اس جرم میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان کی گرفتاری لاپرواہی برتنے کے الزام میں کی گئی ہے۔

پولیس افسران کا دعوٰی ہے کہ شہادتیں حاصل کیے بغیر ان لوگوں کی گرفتاری بے معنی ہوگی اس لئے تحقیقات کی جارہی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کارروائی ہوسکے گی۔

یہ تحقیقات کیا ہورہی ہیں، اس کا کوئی اندازہ نہیں ۔

News image
کند ہم جنس بہ ہم جنس پرواز

پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل نہیں ہوسکی کیونکہ ایک بچی کے جسم کے نازک حصے جانور کھاچکے تھے۔ صرف اتنا علم ہو سکا کہ ہاجرہ کے سر پر کوئی کند آلہ مارکر اسے ہلاک کیا گیا، جبکہ سسّی کے سرمیں گولی ماری گئی۔ پولیس اب تک آلہ قتل برآمد نہیں کرسکی ہے۔

لیکن اس سے قھع نظر پولیس اپنے لوگوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے، وہ اس وقت صاف ظاہر ہوا جب انسپکٹر منیر پھلپوٹو اور سب انسپیکٹر اشتیاق حسین کو ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس اہلکار آگے بڑھ بڑھ کر پھلپوٹو سے گلے مل رہے تھے جس کے کلف لگے صاف ستھرے کپڑوں اور پولیس کے خادمانہ رویہ سے لگتا تھا کہ وہ کوئی سیاسی رہنما ہے۔ اسے ہتھکڑیوں کے بغیر پیش کیا گیا تھا اور چوڑے چکلے جسم کے ساتھ وہ اور چوڑا ہو ہو کر چل رہا تھا۔

گڈاپ تھانہ میں واقع کمپاؤنڈ کا صرف ایک راستہ ہے جو تھانے سے ہو کر جاتا ہے۔ تین دن تک ان لاشوں کو کسی پولیس اہلکار نے نہیں دیکھا اور علاقے کے لوگوں کے خاصے ہنگامہ کے بعد جھاڑیوں سے لاشیں ”تلاش” کی گئیں۔

اس المناک واقعے کو ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا اور اب تک ملزمان تلاش نہیں کئے جاسکے۔ جو لوگ گرفتار ہیں وہ مزے سے رہ رہے ہیں، نہ انہیں لاک اپ میں بند کیا گیا، جو معمول کا ایک طریقہ ہے اور ظاہر ہے ان سے پوچھ گچھ بھی اس طرح نہیں ہورہی ہوگی جس طرح ایک عام شہری سے ہوتی ہے۔

News image
’پولیس کا ہے کم مدد آپ کی‘ پاکستان پولیس کا یہ نعرہ پہلی بار حقیقت کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیا

وہ پولیس کے پیٹی بند بھائی ہیں عام آدمی نہیں۔ پھر انہیں صوبے کے اعلٰی حکام کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے سندھ کے وزیراعلٰی نے تھانے کے عملہ کو معطل کیا ہے مگر گرفتاری کا حکم نہیں دیا۔ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دینے میں بھی انہیں ایک ہفتہ لگا۔ کمیٹی بنانے میں مزید وقت لگے گا اور تحقیقات میں اس سے بھی زیادہ۔

ہاجرہ اور سسّی تو بربریت کا شکار ہوگئیں ان پر آنسو بہائے جاسکتے ہیں جو ان کے گھروالے بہارہے ہیں۔ اور آنسو حکام کی بے حسی پر بھی بہہ رہے ہیں جو مظلوم کی دادرسی کی بجائے ظالموں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد