BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 April, 2004, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: ایک اور پولیس اہلکار قتل

پولیس
ایک اور پولیس اہلکار تشدد کا نشانہ بن گیا
کراچی میں نامعلوم لوگوں نے گولیاں مارکر پولیس کے ایک انسپیکٹر کو ہلاک اور چار لوگوں کو زخمی کردیا۔ یہ واردات جمع کی نماز سے ذرا پہلے ایک مسجد میں ہوئی۔ حملہ آور، پستول پھولوں کی ایک ٹوکری میں چھپاکر لائے تھے اور حملہ کے بعد فرار ہوگئے۔ پولیس افسران کاکہنا ہے کہ فرقہ وارانہ یا مذہبی معاملات سے اس واردات کا بظاہر کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔

پولیس انسپیکٹر توفیق زاہد کے قتل کی واردات فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں محمدی مسجدمیں ہوئی۔

پولیس کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آپریشن طارق جمیل نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور پہلے سے مسجد میں موجود تھے اور جیسے ہی توفیق زاہد وہاں پہنچے، حملہ آوروں نے پستول سے ان کے سر، گردن اور سینے پر گولیاں ماریں۔ اس فائرنگ میں دیگر چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حملہ سے مسجد میں بھگدڑ مچ گئی اور حملہ آور باہر کھڑی ایک موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔

توفیق زاہد اور دوسرے زخمیوں کو تھوڑی دیر بعد اسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ توفیق زاہد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ دوسرے زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

توفیق زاہد96- 1995 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دور میں متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپریشن میں بہت فعال رہے تھے۔

اس آپریشن میں شریک کوئی پچیس کے قریب پولیس اہلکار اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں سابق انسپیکٹر ذیشان کاظمی کو اغوا کرکے قتل کردیا گیا تھا۔اب تک ان کے قاتلوں کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

ڈی آئی جی طارق جمیل کے مطابق وہ ان دنوں سکھر میں تعینات تھے اور چُھٹی پر کراچی اپنے گھر آئے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ واردات کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے اور اس کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ قتل کس نے کیا۔

تاہم لیاقت آباد ٹاؤن کے ناظم ڈاکٹر پرویز محمود نے متحدہ قومی موومنٹ کے لوگوں پر اس قتل کا الزام لگایا ہے۔ ڈاکٹر محمود اور متحدہ کے درمیان شدید کشیدگی ہے۔

متحدہ کے رہنما اور مشیر برائے امورِ داخلہ آفتاب شیخ نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرویز محمود کا خیال ہے جس کے کوئی شواہد ہیں نہ کوئی ثبوت۔ انہوں نے کہا کہ چھان بین اور تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کون اس قتل کا ذمہ دار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد