’سی ڈی‘ سے ملزمان کی شناخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے کمپیکٹ ڈسک (سی ڈی) اور ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے عاشورہ کے جلوس پر حملہ کرنے والے دو افراد کی شناخت کر لی ہے جبکہ اس گروہ کی معاونت پر ایک پولیس اہلکار سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ دو مارچ کو دو افراد نے عاشورہ کے جلوس پر اس وقت فائرنگ کی اور دستی بم پھینکا جب جلوس لیاقت بازار سے گزر رہا تھا۔ اس واقعہ میں تقریباً سینتالیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا ہے خفیہ ایجنسیوں کو نامعلوم افراد نے ایک سی ڈی بھیجی تھی جس میں حملہ آوروں نے تسلم کیا کہ گزشتہ برس چار جولائی کو امام بارگاہ پر حملے میں ان کے گروہ کے لوگ ملوث تھے اور اب ان سے ان کی ملاقات جنت میں ہو گی۔ اس سی ڈی کی بنیاد پر چند افراد کی نشاندہی کی گئی جن کا تعلق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے آبائی گاؤں نصیر آباد سے بتایا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے حاصل کئے گئے خون، ناخن اور بالوں کے نمونوں کا موازنہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے چند خواتین اور مردوں کے نمونوں سے کرایا گیا جو مثبت ثابت ہوا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دونوں افراد دو مارچ سے کچھ عرصہ قبل ہی سے غائب تھے۔ شعیب سڈل نے خود کش حملہ کرنے والے افراد کے نام عبدالنبی اور ہدایت اللہ بتائے ہیں جبکہ ان کی مدد کرنے والوں میں داؤد بادینی اور عثمان سیف اللہ کے علاوہ عبدالعزیز، محمد دلشاد، کمانڈر منظور احمد، شیر احمد عرف شیرا اور محمد جان بتائے گئے ہیں۔ آئی جی نے کہا ہے کہ ان دو افراد کی مدد کرنے والوں میں ایک پولیس اہلکار غلام حیدر بھی شامل ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چھان بین بھی جاری ہے کہ آیا پولیس کے دیگر افراد اس واقعہ میں ملوث ہیں یا نہیں؟ کوئٹہ اور کراچی میں مسجد پر حالیہ حملے میں پولیس اہلکار یا پولیس کی وردی کے استعمال پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اصل ملزمان جن کا انہوں نے بارہا ذکر کیا ہے تاحال گرفتار نہیں ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے کہ پولیس کوششیں کر رہی ہے اور ایک مرتبہ کراچی میں مارے گئے ایک چھاپے میں وہ دونوں افراد چند لمحے پہلے فرار ہو گئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کا افغانستان کی سرحد کے پار ایجنسیوں سے رابطے ہو سکتے ہیں۔ تاہم شعیب سڈل نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا اس واقعہ میں بیرونی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا امکان ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ لوگ جہاد کے نام پر تربیت حاصل کر چکے ہیں اور یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کتنے لوگ ہیں اور کہاں کہاں چھپے ہوئے ہیں اور آئندہ ان کے کیا مقاصد ہیں۔ البتہ شعیب سڈل کا کہنا تھا کہ اب مسجدوں اور امام بارگاہوں پر کیمرے نصب کرنے کے لئے سوچ بچار جاری ہے۔ انہوں نے مذہبی قائدین سے کہا ہے کہ وہ خود مسجدوں اور امام بارگاہوں کی سطح پر ایسی کمیٹیاں قائم کریں جو آنے جانے والے لوگوں پر نظر رکھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||