کوئٹہ میں تینتالیس افراد کی تدفین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں منگل کے روز عاشورہ کے ماتمی جلوسں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے تینتالیس افراد کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ ماتمی جلوس پر حملے کے بعد احتجاج کے دوران گرفتار کئے جانے والے پندرہ شیعہ نوجوانوں کی رہائی کے لیے ان افراد کی تدفین میں تاخیر کی گئی۔ اجتماعی جنازوں کے ہزاروں شرکاء نے حکام کے خلاف نعرہ بازی کی۔ روایتی طور پر مسلمانوں میں موت کے بعد تدفین میں تاخیر نہیں کی جاتی اور چوبیس گھنٹے کے اندر تجہیز و تکفین کر دی جاتی ہے۔
جمعرات کو حکام نے ان پندرہ نوجوانوں کو رہا کر دیا جس کے بعد منگل کے حملے میں ہلاک ہونے والے ترتالیس افراد کی اجتماعی تدفین شروع کی گئی ۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اجتماعی جنازے کے دوران صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ جنازوں کے وقت انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور شہر میں شدید کشیدگی کا ماحول پایا جاتا تھا۔ شیعہ رہنماؤں نے کہا کہ ماتمی جلوس پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔ شیعہ رہنماؤں نے کہا کہ بہت سے نوجوان کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ مقامی ہسپتال میں داخل کئے جانے والے زخمیوں کو خون کا عطیہ دینے کے لیے گئے۔ شیعہ رہنما تنویر الکازم نے کہا کہ منگل کو ہونے والے اندوہناک واقعہ سے حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے کہ انھوں نے محرم کے دوران سخت حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج شیعہ برادری اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے۔ امام بارگاہ نیچاری سے ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ایک وقت میں بتیس جنازے اٹھائے گئے۔ جنازے اٹھاتے وقت عزیزو اقارب نے اپنے پیاروں کے ساتھ لپٹ لپٹ کر رونا شروع کر دیا۔ یاد رہے کہ شیعہ قائدین نے گزشتہ روز پولیس انسداد دہشت گردی کی فورس اور ضلعی انتظامی افسران کی معطلی اور ان کے خلاف کارروائی جیسے مطالبات سامنے رکھے تھے۔ شہر اڑتالیس گھنٹے سے کرفیو نافذ ہے لیکن بعض غیر حساس علاقوں میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے بتایا ہے کہ کرفیو میں وقفے کے لئے فیصلہ تدفین کے بعد کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||