BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 23:57 GMT 04:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ ہلاکتیں، تحقیقات کا حکم

کوئٹہ میں فائرنگ
عاشورہ کے ماتمی جلوس پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھیالیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ شیعہ برادی کے قائدین نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں پانچ پولیس اہلکار اور دو حملہ آور بھی شامل ہیں

اس وقت امام بارگاہوں میں کوئی اڑتیس جنازے پڑے ہیں۔ شیعہ قائدین کے مطابق یہ جنازے چار بجے امام بارگا ہ نیچاری سے اٹھائے جائیں گے ۔ پہلے یہ جنازے صبح اٹھانے تھے لیکن گزشتہ روز لگ بھگ پندرہ مشتعل مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا جن کا شیعہ قائدین نے رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے انھیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد جنازے اٹھائے جائیں گے۔

ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ کرفیو میں وقفہ کا فیصلہ تدفین سےفارغ ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ شہر میں یوں تو خاموشی ہے فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے اور شہر کا گشت جاری ہے لیکن شیعہ برادی کے علاقے میں صف ماتم بچھا ہوا ہے جہاں وقفے وقفے سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کی خبریں آرہی ہیں۔ آہوں اور سسکیوں کی آوازوں سے ماحول انتہائی افسردہ ہے۔

دوسری جانب شہر کا دل یعنی لیاقت بازار پرنس روڈ اور عبدالستار روڈ تباہی کا منطر پیش کر رہا ہے جہاں بیشتر دکانیں گاڑیاں اور دیگر املاک جلا دی گئی تھیں۔ آج صبح سول ہسپتال میں ایک نعش لائی گئی ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ بینک کو آگ لگانے سے اس میں موجود چوکیدار جھلس کر ہلاک ہو گیا ہے۔

شہر کے دو بڑے ہسپتالوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھیالیس ہے لیکن یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ نعشیں براہ راست گھروں کو لے جائئ گئی ہیں جبکہ کچھ نجی ہسپتالوں میں ہیں۔

صوبائی کابینہ کا اجلاس اب سے تھوڑی دیر بعد وزیراعلی کی صدارت میں بلایا گیا ہے اس وقت امن و امان کی صورتحال پر صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کا اجلاس جاری ہے۔

دریں اثنا یومِ عاشور کے جلوس پر فائرنگ کے نتیجے میں بیالیس افراد کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی نے اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔ حکومت نے ہلاک شدگان کے لواحقین کو مالی معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

بدھ کو صوبائی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں صورتِ حال پر غور کیا جائے گا اور امن و امان کے حوالے سے نئے اقدامات تجویز کئے جائیں گے۔

شہر میں کرفیو نافذ ہے جبکہ فسادات کے تیجے میں تباہ ہونے والی دکانیں اور عمارتوں پر آگ بجھانے کام رات گئے تک جاری رہا۔

ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ ماتمی جلوس پر حملہ کرنے والے افراد کی تعداد تین بتائی گئی ہے دو حملہ آور موقع پر ہلاک ہوگئے جب کہ ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا جس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ انھوں نے کہا ہے کو حملہ آور شکل سے بلوچستان کے نہیں لگتے۔

ھزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین جواد ایثار نے اس واقعے پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی اس واردات میں ملوث افراد کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ انتظامیہ کی ناکامی ہے اور اس سے بیشتر کے حالات قابو سے باہر نکل جائیں حکومت اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنا چاہیے۔

 کمبائنڈ ملٹری ہسپتال
کمبائنڈ ملٹری ہسپتال

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ یہ حملہ میزان چوک سے آگے لیاقت بازار میں بانو مارکیٹ کے سامنے ہوا ہے اور حملہ آور ایک دکان کے بالا خانے میں موجود تھے ۔

جب پہلا جلوس نکل گیا تو حملہ آوروں نے دوسرے جلوس پر حملہ کردیا ابتدائی مرحلے میں کم گولیاں چلائیں ۔ ایک حملہ آور نے اپنے جسم کے ساتھ دستی بم باندھ رکھے تھے جو بالاخانے میں ہی پھٹ گئے تھے۔

دوسرے حملہ آور کو فائرنگ کے دوران ہلاک کردیا گیا ان حملہ آوروں نے ایک دو فائر کے بعد جلوس پر دستی بم پھینک دیا تھا جس سے افرا تفری میں شدت آگئی۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے ہر طرف سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔

انجمن امام بارگاہ کے جنرل سیکرٹری داؤد آغا نے اس سانحے کے بارے میں بتایا کہ فائرنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اہلکار نظر نہیں آرہے تھے جبکہ لوگ زخمیوں اور ہلاک ہونے والے افراد کو ہسپتال پہنچانے کے کام میں لگے رہے۔

بعد میں مشتعل مظاہرین نے دکانوں اور عمارتوں کو آگ لگا دی اور گیس پائپ لآئن کو نقصان پہنچنے سے شہر میں گیس کی ترسیل منقطع کر دی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق پچاس سے زیادہ دکانوں کو جلایا گیا ہے جبکہ پرنس روڈ پر ہوٹل اور اخبار کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

News image

اس واقعے پر صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ یہ خود کش حملہ محسوس ہوتا ہے اور ایسے واقعات پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ وہ متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ان واقعات میں ملوث ان افراد کو جو اب ہمارے علاقے میں گھس آئے ہیں نکال باہر کیا جائے۔

سول ہسپتال کوئٹہ اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیالیس ہوگئی ہے ان میں پانچ پولیس اہلکار اور دو حملہ آور بھی شامل ہیں جبکہ سو سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

اس کے علاوہ شیعہ برادی کے قائدین نے بتایا ہے کہ کئی افراد کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا جن کے بارے میں تفصیلاٹ اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد