BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 00:31 GMT 05:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہمیں صرف کربلا میں دفن کریں‘
کربلا میں تدفین
مرنے کے بعد کربلا میں دفن ہونے کی دعا
بھارت میں بہت سے شیعہ مسلمان اپنے عزیزوں کی میتیں محفوظ رکھے ہوئے ہیں تاکہ انہیں عراق میں کربلا میں آخری تدفین کے لئے لے جایا جا سکے۔

عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد اور مذہبی آزادیوں کی بحالی کے بعد اس بات کی امید پیدا ہوئی ہے کے یہ خاندان اپنے عزیزوں کی آخری خواہش پوری کر سکیں گے۔

لکھنؤ صدیوں سے شیعہ مسلمانوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ لکھنو کے ایران، عراق اور وسطی ایشیا کے دوسرے علاقوں سے گہرے مذہبی اور ثقافتی روابط ہیں۔

لکھنؤ کے قبرستان کے بارے میں، جو عیش باغ کے پل کے قریب واقع ہے، ایک واقعہ مشہور ہے جس سے لکھنؤ کے عراق کی بستیوں نجف شریف اور کربلا سے گہرے تعلق کا ثبوت ملتا ہے۔

اس قبرستان کے ایک رکھوالے محمد خلیل کے مطابق ایک میت پچھلے بارہ سال سے قبرستان میں حفاظتی تحویل میں ہے تاکہ آخری تدفین کے لئے اسے کربلا لے جایا جا سکے۔

محمد خلیل کے مطابق اصل میں اس کے پاس کربلا لے جانے کے لئے دو میتیں حفاظتی تحویل میں تھیں لیکن ان میں سے ایک کو اسکے ورثا نے عراق لے جانے میں ناکامی کے بعد لکھنؤ ہی میں دفن کر دیا۔

پچھلے بارہ سال سے قبرستان میں امانتاً دفن دوسری میت ممتاز شیعہ عالم مولانا حمیدالحسن کی والدہ افتخار فاطمہ کی ہے۔

مولانا حمیدالحسن کے مطابق ان کی والدہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں وفات کے بعد نجف اشرف، کربلا میں دفن کیا جائے۔

مولانا کے نانا اور نانی کو بھی ایسی ہی وصیت کے مطابق عراق لے جا کر دفنایا گیا تھا۔ مولانا کے مطابق ان کی والدہ کی تدفین میں تاخیر کی وجہ عراق کے نا موافق حالات ہیں۔

مولانا نےمزید بتایا کہ وہ اپنےایک عزیز کی میت کو تدفین کے لئے انیس سو چون میں عراق لے کر گئے تھے۔

عراق کے مقامی حکام تدفین کی اجازت کچھ خاص ضوابط کے پورا کرنے پر دیتے ہیں۔ کربلا میں تدفین کے لئے جگہ کی کمی کے مسئلے کے حل کے لئے زیرِ زمین تہہ در تہہ قبرستان بنا دیۓ گئے ہیں۔

لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ ایسی کتنی میتیں کربلا میں تدفین کی منتظر ہیں۔

محمد خلیل اور قبرستان کی منتظمہ کمیٹی کے دوسرے ارکان کے مطابق لکھنؤ کے چند دوسرے قبرستانوں میں بھی عراق لے جانے کے لئےکچھ میتیں حفاظتی تحویل میں ہیں۔

لکنھؤ کے علاوہ رامپور اور بارہ بنکی کے کے علاقوں میں بھی ایسی ہی روایت پائی جاتی ہے۔

ایسی میتوں کو محفوظ کرنے کے لئے انہیں کچھ کیمیائی اجزاء لگائے جاتے ہیں جس کے بعد انہیں لوہے کے بکسوں میں قبرستان میں علیحدہ مقام پر امانت کے طور پردفن کر دیا جاتا ہے۔

پہلے ان میتوں کو سمندری جہازوں کے ذریعے عراق لے جایا جاتا تھا۔ اب ہوائی جہازوں نے ان کی ترسیل آسان بنا دی ہے۔

لیکن پچھلے کچھ سالوں سے عراق میں غیر معمولی حالات کی وجہ سے ان میتوں کو عراق لے جانا تقریباً نا ممکن ہو گیا تھا۔

ایک بزرگ مصطفیٰ علی نے کہا ’ ہم سب کو کربلا میں دفن ہونے کی تمنا ہے لیکن چونکہ یہ بہت مشکل ہے اسلئے ہم اپنے عزیزوں کو یہیں پر دفن کر دیتے ہیں‘۔

شیعہ مسلمانوں کی مذہبی عقیدت کی تسکین کے لئے مقامی قبرستانوں میں حضرت امام حسین اور دیگر ہستیوں کے روضئہ ہائے مبارک کے چھوٹے ماڈل تعمیر کر دیئے جاتے ہیں-

ایک مسلمان مذہبی لیڈر کے مطابق ایک مسلمان کی اصل تمنا نجف شریف اور کربلا میں شہادت ہے۔ مالی استطاعت رکھنے والے کربلا میں اپنی تدفین کی وصیت کرتے ہیں۔

مولانا حمیدالحسن کے مطابق اسلامی قانون اور شریعت کے تحت ایسی روایت

کی اجازت ہے۔

شیعہ مسلمانوں کااعتقاد ہے کہ کربلا میں دفن ہونے سے وہ روز ِجزاء کے سوال و جواب سے بچ جائیں گے اور سیدھے جنت میں داخل ہوں گے۔

ہر مذہب میں ایسی رسومات ملتی ہیں کہ لوگ اپنی تدفین یا آخری رسومات اہم مذہبی مقامات پر کروانا چاہتے ہیں۔

بھارت میں ہندو یا تو گنگا کے کنارے بنارس میں مرنے کی خواہش رکھتے ہیں یا پھر اپنی آخری رسومات وہاں کروانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد