BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوم عاشور پر ہونیوالے دھماکے
کربلا میں ہونیوالا دھماکہ
کربلا میں ہونیوالا دھماکہ
یوم عاشور پر کربلا میں ہونیوالے دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کربلا کے علاوہ بغداد شہر کے ان مقامات پر بھی کئی دھماکے ہونے کی اطلاع ملی ہے جہاں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ادھر پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں عاشورۂ محرم کے دن شیعہ مسلمانوں پر فائرنگ سے کئی عزادار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

یوم عاشور پر ہونیوالے ان دھماکوں پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


نسرین زیدی، پاکستان: میں یومِ عاشور پر ہونیوالے ان حملوں کی سخت مزمت کرتی ہوں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگ امن نہیں چاہتے اور قوم کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ نہ تو وہ مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ وہ اسلام کو دنیا میں بدنام کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔

عابد علی، کراچی: امریکہ کی یہ ہٹ دھرمی ہے کہ اس نے عراق پر حملہ کیا اور وہ کسی بھی طرح عراق میں امن نہیں چاہتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ امریکہ عراق پر اپنی حکومت چلانا چاہتا ہے۔ جہاں تک القاعدہ کی بات ہے تو وہ ایک امن پسند تنظیم ہے جو اس طرح مسلمانوں کا قتل نہیں کرسکتی۔

سید مقصود رشید، یو اے ای: امریکہ اور برطانیہ نے جو عراق میں بلاجواز گھس پیٹھ کی اور وہاں امن قائم کرنے میں ناکامی ہوئی، اس سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ سب ڈرامہ کھیلا گیا۔ افسوس کہ کتنے ہی معصوم لوگ امریکہ کے گھسنے کے بعد مارے گئے۔

انسانیت کی راہ پرچلیں
 میں ایک پاکستانی، غیرمسلم ہونے کی حیثیت سے اس طرح کے ظالمانہ، وحشیانہ حملے کی سخت مزمت کرتا ہوں۔ اللہ ہمیں انسانیت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور شہید ہونے والے بھائیوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔
راہول سچدیو، بلوچستان

راہول سچدیو، بلوچستان: میں ایک پاکستانی، غیرمسلم ہونے کی حیثیت سے اس طرح کے ظالمانہ، وحشیانہ حملے کی سخت مزمت کرتا ہوں۔ اللہ ہمیں انسانیت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور شہید ہونے والے بھائیوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔

آصف علی، علمدار روڈ، کوئٹہ: اہل تشیع کی مسلسل ہلاکتوں سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ملک کی حکومت ناکام ہوئی ہے۔ یہ دہشت گردوں سے نمٹنے میں ناکام ہورہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت ہی ملوث ہو۔

غلام تقی، لڑکانہ، سندھ: یہ ایک بہت ہی المناک واقعہ ہے، دونوں ملکوں میں اور اس بہت بڑے دن پر، اور میں یہ بتاتا چلوں کہ شیعہ وہ قوم ہے جو دین اول سے قربانیاں دیتے آرہی ہیں اور یہ قوم شروع سے مظلوم ہے اور آخر تک رہے گی۔

فرح سعود عباسی، امریکہ: یہ کام کسی انسان کا نہیں۔ اللہ ایسے لوگوں پر عذاب نازل کرے اور حکومتِ پاکستان انہیں جلد از جلد پکڑکر سخت ترین سزا دے۔ یہ کسی معافی کے لائق نہیں ہیں۔

نثار علی جعفری، وِٹبی، کینیڈا: میں عراق اور کوئٹہ میں ہونیوالے حملوں کی شدید مزمت کرتا ہوں۔ مشرف اور جمالی کی حکومت انہیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔

محمود اکرم، پاکستان: کوئٹہ میں ہونیوالا حملہ جنرل ضیاءالحق کی دور کی خارجہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔

ارشد صابر، سیالکوٹ: یہ مسلم ملکوں کی عادت ہوگئی ہے کہ اپنے مسائل کی ذمہ داری امریکہ جیسے دوسرے ملکوں پر تھوپ دیتے ہیں۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے لیکن یہ ممالک صرف اپنے فرقوں کو خوش کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔

نعیم درانی، کوئٹہ: عراق اور کوئٹہ میں یہ جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں امریکہ کا مفاد شامل ہے۔ اس قسم کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات ہونے چاہئیں۔ عراق میں جو کچھ ہوا اس میں امریکہ کا ہاتھ ہے تاکہ وہ اپنا مفاد حاصل کرسکے۔

خواجہ اصغر سعید، جدہ: یہ سب اسلئے ہوا کیونکہ کچھ اسلام مخالف طاقتیں مختلف فرقوں میں تفریق پیدا کرنا چاہتی ہیں اور اسلامی ملکوں میں ترقی ناکام بنانا چاہتی ہیں۔

نثار حسین، کراچی: افغانستان اور عراق امریکہ کے قابو میں نہیں رہے۔ اپنی خفگی مٹانے کے لئے اور میڈیا کو نئی خبریں دینے کے لئے امریکہ نے پاکستان اور عراق میں فسادات کروائی ہے۔

محمد یسین، سعودی عرب: کسی بھی مسلمان، شیعہ یا سنی، کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ کربلا اور کوئٹہ کے واقعات میں کسی تیسرے ملک کا ہاتھ ہے۔

سخت کارروائی کریں
 حکومت کو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے اور لوگوں کو اس خوف سے نجات دلانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اتحاد اور امن و بھائی چارے سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
محمد سلطان جمالی، جیک آباد

محمد سلطان جمالی، جیک آباد، پاکستان: بڑا افسوس ہے کہ عاشورۂ محرم کے روز اس قسم کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے۔ جبکہ سیکیورٹی کے انتظامات بھی عام دنوں کی نسبت سخت ہوتے ہیں پھر بھی اس قسم کے واقعات کا جنم لینا ہی بہت ہی خطرناک بات ہے، وہ بھی کوئٹہ جیسے حساس علاقے میں، حکومت کو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے اور لوگوں کو اس خوف سے نجات دلانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اتحاد اور امن و بھائی چارے سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

شعبان علی، پاکستان: یہ اسلام اور کے دشمن ہیں جو اس طرح کے واقعات کرتے ہیں۔ ڈاؤن وِتھ امریکہ، ڈائن وِتھ القاعدہ۔

عمران جعفری، بہاولپور: یہ کوئی نئی بات ہے؟ یہ سب امریکہ اور اسرائیل کا کام ہے۔ شیعہ اور سنی کو لڑانا پاکستان میں کچھ حد تک سپہ صحابہ کا کام ہوسکتا ہے۔ اللہ ہر مسلمان کو خوش رکھے۔

غالب حسین، پشاور: کوئٹہ میں جو کچھ ہوا وہ ہماری ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو ہم نے دو عشروں سے جاری رکھیں تھیں۔

نوازش رضا، کراچی: جب تک فتویٰ سازی کے وہ مراکز بند نہیں ہونگے جو اپنے علاوہ کسی کو انسان اور مسلمان نہیں سمجھتے اور بے گناہ انسانوں کے قتل کے فتوے دیتے رہے ہیں، اس وقت تک قتل عام کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

جعفر، لاہور: یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔۔۔۔

ضیاء، حیدرآباد: محرم پر ہونے والا یہ واقعہ حکومت اور انتظامیہ کی سراسر نااہلی کا ثبوت ہے۔ اس واقعے کے مجرموں کو گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے۔ یہ خونِ ناحق ہے اس کا عذاب بھی ضرور آئےگا۔ قتل تو شیع یا سنی، کسی کا بھی ہو، ظلم ہوتا اور قدرت ہم سے اس کا حساب لے گی۔

سید رضا احمد، دوبئی: ہم مسلمانوں کو آپس میں مل جل کر رہنا چاہئے اور محبت کی فضا قائم رہنا چاہئے۔ اگر عراق کی تاریخ دیکھیں تو صدام حسین جیسے شخص کے دور میں بھی مذہبی منافرت پھیلانے والی بات نہیں ہوئی۔

ثقلین تقوی، کراچی: یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ دونوں واقعات ان ممالک میں رونما ہوئے ہیں جہاں امریکیوں کا کنٹرول ہے۔ آخر امریکہ اور برطانیہ مسلمانوں کو اتنا بیوقوف کیوں سمجھ رہے ہیں؟

ہارون رشید، سیالکوٹ: یہ صرف اور صرف ہم مسلمانوں کے اعمال کا نتیجہ ہیں۔

انسانیت کے مجرم
 جو لوگ بھی اس وحشیانہ طریقے سے مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں وہ مسلمانوں کے دشمن اور انسانیت کے مجرم ہیں۔
عمران محسن، جاپان

عمران محسن، جاپان: آج کوئی سنی ہے، اور کوئی شیعہ۔ ہم لوگ فرقہ پرستی میں گم ہوکر اپنے اصل مقاصد سے دور ہوگئے ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ہم سب پہلے مسلمان ہیں اور انسان ہیں۔ جو لوگ بھی اس وحشیانہ طریقے سے مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں وہ مسلمانوں کے دشمن اور انسانیت کے مجرم ہیں۔

عامر رفیع، رومانیہ: محرم امن کا مہینہ ہے۔ جس نے بھی یہ حملہ کیا وہ حقیقت میں مسلمان نہیں ہے۔ یہ مسلم امہ کی یکجہتی کو توڑنے کے لئے ایک بربریت ہے۔

عماد محسن، پاکستان: یہ سب حیوانیت ہے، ایسا کرنیوالوں کا شمار انسانیت میں نہیں کرنا چاہئے۔ یہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے جس کی مخالفت اور ہر شیعہ اور سنی مسلمان کو کرنی چاہئے۔ حکومت جلد از جلد ان عناصر کو سخت ترین سزا دے جو اس حیوانیت کے ذمے دار ہیں۔

ولید خالد، ربوہ، پاکستان: یہ سب کچھ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ نے کروایا ہے، وہ دنیا میں امن نہیں چاہتے ہیں۔

ندیم سید، جاپان: سب سے پہلے تو یہ سوچنا چاہئے کہ ابھی ملک میں امن و امان نہیں ہے، پھر معاشی بحران، پھر اغیار کا تسلط، پھر چاروں پر سے مختلف قسم کے حملوں کے خطرات، ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان علماء حضرات کو عقل کیوں نہیں ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کرتے ہیں؟

نعیم خان، پاکستان: میرا خیال ہے کہ یہ افغانستان میں موجود انڈین کیمپ میں ٹرینِنگ کرنیوالوں نے کیا ہے۔

اصغر خان، برلِن: یہ سب باطل کی چال ہے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہئے اور یورپی یونین سے مدد لینی چاہئے، بالخصوص اٹیلیجنس معاملات میں۔

وقار حیدر، سید گجر خان، پاکستان: یہ مقابلہ قیامت تک رہے گا۔

شاہ رخ بلوچ، لاہور: مسلم امہ کے لئے یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ قابض فوجیں عراق میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

مصدق جلال، دوبئی: یہ امریکہ ہے جو دنیا کو یہ بتانا چاہ رہا ہے کہ عراق کو امریکہ کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ عراقی تیل کا فائدہ اٹھاسکے۔

غلام عباس، خان پور، پنجاب: یہ حملے کھلی دہشت گردی ہیں اور ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا چاہئے۔

جاوید اختر، کابل: کربلا اور کوئٹہ میں ان حملوں کی خبر سن کر میں شرمندہ ہوں۔

حیدر خان، سِڈنی: میں ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ضرور کہوں گا کہ جس نے بھی یہ کیا ہے وہ تو مسلمان ہے ہی نہیں۔ میں پاکستان کی حکومت سے پرزور اپیل کروں گا انہیں پکڑکر پھانسی دیدے۔

سید رِضوی، پاکستان: تمام مومنیں ان حملوں پر اداس ہیں۔

مسلمان ہی کیوں؟
 دنیا میں کتنی ہی قومیں آباد ہیں، بہت سی نسلوں کے لوگ ہیں۔ مگر کیا ہم سے رسوا اور بدنام ہے کوئی؟
محمد یوسف اقبال، دوبئی

محمد یوسف اقبال، دوبئی:دنیا میں کتنی ہی قومیں آباد ہیں، بہت سی نسلوں کے لوگ ہیں۔ مگر کیا ہم سے رسوا اور بدنام ہے کوئی؟ اس وقت مسلمانوں کی جو حالت ہے اس کو بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں۔ مسلمان ہی مسلمان کو رسوا کررہا ہے تو پھر دوسرے کیوں نہ کریں؟

سید مصطفیٰ ہزارہ، دوبئی: جس نے بھی حملہ کیا، خدا ان کو غرق کرے، وہ مسلمان نہیں۔۔۔

آفتاب حسین، شارجہ: ہمیں تو سب سے پہلے ہمارے والدین نے انسانیت کا درس دیا تھا۔ کیا ان قاتلوں کو ان کے والدین نے انسانیت کا درس نہیں دیا؟

ممتاز شاہ، سرگودھہ: پاکستان اور عراق میں دھماکے افسوسناک ہیں۔ عراقی غیرملکیوں کے قبضے میں ہیں اور اس طرح کے حملے میرے لئے تعجب کی بات نہیں ہیں، میں ان کی امید کررہا تھا۔ اگر اس طرح کے حملے نہ ہوں تو امریکہ پر عراق چھوڑنے کے لئے دباؤ نہیں ہوگا۔

سجاد ظفر، مظفرگڑھ، پنجاب: یہ حملے سنی انتہا پسندوں نے کیے ہیں جو عشروں سے ایسے حملے پاکستان، افغانستان اور عراق میں کرتے رہے ہیں۔

محمد رانا، کراچی: یہ سب کچھ امریکی فورسز اور ان کے اتحادیوں کی غیرذمہ داریوں کا نتیجہ ہے۔

کامل، امریکہ: حکومتِ پاکستان اندرونی طور پر طالبان سے بہت ڈرتی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے کوئٹہ میں اسلحہ دیکر حملہ آوروں کو مکانوں پر کھڑا کیا تاکہ جلوس پر آزادانہ فائرنگ کرسکیں۔

ابرار قریشی: میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عراق اور پاکستان میں ہونیوالے ان حملوں میں امریکہ کا ہاتھ تھا۔ چونکہ یہ حملے عراق میں امریکہ کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ عراق چھوڑنا چاہتا ہے۔ عراق اور پاکستان میں یہ حملے دہشت گردی کی ایک شکل ہیں۔

سید حسن، دوبئی: اس طرح کے حملے عوام کو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیتے ہیں اور ملک و قوم کو کمزور بنادیتے ہیں۔

سید طاہر حسین زیدی، دوبئی: میرے لئے یہ حملے نہایت ہی افسوسناک ہیں۔ میرے خیال میں ماتمی جلوس سڑکوں پر نہیں نکالنا چاہئے۔ عبادت امام بارگاہ میں کی جانی چاہئے۔

باسط علی، لندن: امامِ وقت امام مہدی (ع) کا ظہور نزدیک ہورہا ہے۔

شمش کھوکھر وحید، امریکہ: یہ کوئی نئی بات نہیں ہے:لڑاؤ اور حکومت کرو کا اصول برطانیہ نے وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ بدقسمتی سے اب امریکہ کررہا ہے۔

لئیق احمد، بہار، انڈیا: جس نے بھی یہ حملہ کیا ہے عراق اور پاکستان میں وہ انسان نہیں حیوان سے بھی برا ہے۔

نجم منیر، کراچی: کوئٹہ میں جو بم دھماکے ہوئے ہیں ان کے پیچھے انہی تنظیموں کا ہاتھ ہے جن کے خلاف حکومت وانا میں آپریشن کررہی ہے۔ یہ حادثہ انہی لوگوں کا ردعمل ہے اور جو کچھ بھی عراق میں ہورہا ہے اس کے پیچھے صرف اور صرف امریکہ کا ہاتھ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سنی اور شیعہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لڑیں۔

فیصل چاندیو، حیدرآباد، پاکستان: خون تو خون ہے جب کسی بےگناہ یا مظلوم کا بہا ہے تو عذاب آیا ہے یا انقلاب۔

سید مدثر شاہ، ملتان: کوئٹہ میں جو کچھ بھی وہ تمام مسلمانوں کے لئے شرمندگی کی بات ہے۔

حفاظتی انتظامات
 کوئٹہ کی انتظامیہ کو پہلے سے ہی آگاہ کیا گیا تھا تو پھر بھی حفاظتی انتظامات میں ناکامی کیوں؟
امجد نقوی، لاہور

امجد نقوی، لاہور: ہم ان حملوں کی شدید مزمت کرتے ہیں جو کوئٹہ میں پیش آئے۔ یہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے۔ کوئٹہ کی انتظامیہ کو پہلے سے ہی آگاہ کیا گیا تھا تو پھر بھی حفاظتی انتظامات میں ناکامی کیوں؟

سید شاداب، کینیڈا: آج باطل حق کے مقابلے میں خوف زدہ ہے، آج حق کا بول بالا ہورہا ہے اور باطل کا منہ کالا ہورہا ہے، اور آج باطل چھوپ کر وار کررہا ہے۔

نومیر ریاض، لاہور: ایک پاکستانی مسلم ہونے کے ناطے میں ان حملوں کی شدید مزمت کرتا ہوں۔ میں حکومتِ پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ ذمہ دار لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرے۔

ساحل عامر: ہم مسلمانوں کو شرمندہ ہونا چاہئے۔ ہم ایک دوسرے کو ہلاک کررہے ہیں۔

ظفر خان، مانٹریال: کسی ایجنسی یا ملک پر الزام لگانے کے بجائے خود ٹھیک ہونے اور اتحاد بین المسلمین کی ضرورت کو یقینی بنائیں۔ سنی بھائی شیعہ بھائیوں کی عزاداری و ماتم پر اعتراض نہ کریں اور شیعہ بھائی اپنی مجالس میں خلفائے راشدین کے بارے میں غلط باتیں نہ کریں۔

محمد حبیب، کرناٹک، انڈیا: یہ سب کچھ غلط ہورہا ہے۔

ارشد اقبال، پاکستان: جو شخص بھی اس طرح کے دھماکے کراتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ اگر وہ اسے جہاد سمجھتا ہے تو وہ غلط ہے۔

خضر سرگنہ، کینیڈا: اسلامی اتحاد کے لئے یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ اس طرح کے افسوسناک واقعات کے ذمہ دار اسلامی امہ کے خلاف کام کررہے ہیں۔

رانا قریشی، امریکہ: یہ سب کچھ امریکہ کروارہا ہے۔

عفت صدیقی چودھری، پاکستان: کبھی کبھی اس طرح کے واقعات پڑھ کر خود پر شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم کیا تھے اور اب کیا بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور کون یہ فیصلہ کرے گا کہ کون کون شہید ہے اور کون نہیں۔ سنی اور شیعہ تو بہت بعد میں، کیا ہم انسان بھی ہیں؟

عمر مختار، لاہور: یہ اصل بنیاد پرستی ہے۔ اور مسلمان قوم کو سب سے زیادہ خطرہ اسی سے ہے۔ میں اس کی شدید مزمت کرتا ہوں۔

عابد علی، کراچی: میں کوئٹہ کے دھماکوں کی پرزور مزمت کرتا ہوں۔

محبوب احمد، سوات، پاکستان: یہ حملے بزدلانہ کارروائی ہیں اور جس کسی نے بھی یہ بزدلانہ قدم اٹھایا ہے وہ یقینا دہشت گرد ہے۔

نرمی سے پیش آئیں
 مسلمان کی حیثیت سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد نہیں، دہشت گردی کا واقعہ ہے۔
قادر جان، چمن، پاکستان

قادر جان، چمن، پاکستان: میں ان حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں جو کوئٹہ میں پیش آئے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد نہیں، دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

محمد حسین، پاکستان: لگتا ہے کہ یہ حکومت نے کرایا ہے۔

اسد علی، ناروے: ہم افغان رفیوجی کوئٹہ اور کربلا میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم یورپی حکومتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومتِ پاکستان پر دباؤ ڈالیں تاکہ ان دہشت گردوں کو گرفتار کیا جاسکے۔

عادل محمد، نارِچ، برطانیہ: میرے خیال میں کوئٹہ کے واقعات کی سنی علماء مذمت کریں۔

ذوالفقار علی شاہ، کوئٹہ: ایک مسلمان کی حیثیت سے بہت دکھ ہو رہا ہے مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم دنیا کو کیا بتانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو سوائے رسوائی کہ اور کیا دے رہے ہیں؟ ہمیں اللہ ہدایت کرے۔

اسلام اور امن
اسلام امن کا مذہب ہے اور جس میں امن نہیں وہ مسلم نہیں۔
عطاء القدوس طاہر، ٹورانٹو

عطاء القدوس طاہر، ٹورانٹو: اسلام امن کا مذہب ہے اور جس میں امن نہیں وہ مسلم نہیں۔ مذہبی نفرت کے بنا پر قتل، پاکستان کی بہت پرانی تاریخ ہے۔ یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر مسلمان ہی کیوں اللہ کی غذب کا شکار ہیں۔

محمد جواد: جن لوگوں نے یہ دھماکے کیے وہ مسلمان نہیں۔ یوم عاشور تمام مسلمانوں کے لئے صدمے کا دن ہے، چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ۔

فرحان آرائین، ڈلاس، امریکہ: میں ایک سنی مسلمان ہوں لیکن جو کوئی بھی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے، چاہ وہ سنی ہو یا شیعہ ہو، کسی دوسرے مسلمان کا قتل نہیں کرسکتا۔

وقار خان، جھنگ: میرے خیال میں ان حملوں کے ذمہ دار لوگوں کو معاف نہیں کیا جانا چاہئے۔

کریم اللہ سفی، کوئٹہ: حکومت اصل قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچا دے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا، گویا کہ اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔

عطا حسین، اسلام آباد: یہ واقعات بہت افسوسناک ہیں اور مجھ جیسے فرد کو یہ سوچنے پر مجبور کررہے ہیں کہ اگر ہمارا مذہب امن کی بات کرتا ہے تو مسلمان یہ غلطیاں کیوں کررہے ہیں؟

مہدی خان، پاکستان: یہ کام جس نے بھی کیا ہے، انتہائی غلط ہے۔ اس کے لئے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ کتنے گھر اجڑ گئے، کتنے بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے، آمین!

شوکت محمود علوی، سعودی عرب: ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ مذبِ اسلام خون بہانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہوسکتا ہے امریکی فوج اپنے رہنے کے جواز کے لئے یہ کررہی ہو۔۔۔

غلام عباس، کراچی: کوئٹہ اور کربلا میں ہونے والے واقعات انہی لوگوں نے کیے ہیں جو شیعہ لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں۔

طلعت جعفری، ایتھنز، یونان: صدام حسین شیعہ اکثریت پر ظلم کرتے رہے لیکن عراق میں فرقہ واریت کی فضا نہیں ہے۔ عراق میں ہونیوالے بم دھماکے امریکی سازش ہیں۔ امریکہ عراق میں رکے رہنے کا جواز پیدا کررہا ہے۔

عمران مرزا، کویت: یہ مسلمانوں کو لڑوانے کی سازش ہے۔ شیعہ حضرات بھی ہمارے بھائی ہیں۔

لیاقت اورکزئی، کوہات: ان حملوں میں جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ ہم مسلمان یقین کرتے ہیں کہ آخرت میں انہیں سزا ضرور ملے گی۔ تمام سیکیورٹی انتظامات کے باوجود یہ حملے کیسے ممکن ہوئے؟

سیفی ظہیر، ابوظہبی: یہ امریکی ایجنسیوں نے کیا ہے تاکہ مسلمانوں کے دونوں فرقوں کو لڑایا جاسکے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد