یومِ عاشورہ: سخت حفاظتی انتظامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز یومِ عاشور کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پاکستان بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ملک کے صوبہ پنجاب میں تقریباً چھ قصبوں میں فوج کو چوکنا کر دیا گیا ہے جن میں دارالحکومت لاہور بھی شامل ہے جہاں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے چھ ہزار اہلکاروں کو تقریباً ڈیڑھ سو حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں پاکستان میں فرقہ وارانہ وارداتوں میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ پنجاب میں پولیس کے سربراہ آئی جی سید مسعود شاہ نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں ہونے والے اس واقعہ کے بعد جہاں ایک شعیہ مسجد میں اجتماع کے دوران ایک خود کش بمبار ہلاک ہو گیا تھا حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے ۔ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں چار ہزار سے زائد اہلکار گشت کر رہے ہیں کوئٹہ میں گزشتہ برس فرقہ وارانہ وارداتیں ہوئی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||